مشاہد اللہ کے رشتے داروں کی تعیناتی کا معاملہ نیب کو بھیج رہے ہیں، فواد چوہدری -
The news is by your side.

Advertisement

مشاہد اللہ کے رشتے داروں کی تعیناتی کا معاملہ نیب کو بھیج رہے ہیں، فواد چوہدری

اسلام آباد: وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے سینیٹ میں معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں تھا، میں معذرت کر لیتا ہوں۔

تفصیلات کے مطابق وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے سینیٹ میں معذرت کر لی، معذرت کے بعد فواد چوہدری کو بات کرنے کا موقع دیا گیا۔

بھائیوں راشد اللہ، ساجد اللہ، مجاہد اللہ اور 13 مزید رشتہ داروں کو بھرتی کیا گیا: فواد چوہدری

سینیٹ میں معذرت کے بعد فواد چوہدری ایک بار پھر پی آئی اے میں بھرتیوں کی تفصیلات بتانے لگے تو چیئرمین سینیٹ نے انھیں منع کر دیا، کہا ’آپ نے جب معذرت کر لی تو اس پر بات نہ کریں۔‘

وزیرِ اطلاعات چیئرمین سینیٹ کے منع کرنے کے باوجود سینیٹ میں بولتے رہے، انھوں نے کہا ’میں نے غلط نہیں کہا، مشاہد اللہ خان نے تینوں بھائی بھرتی کرائے۔‘

فواد چوہدری کے بیان پر مشاہد اللہ نے ایوان میں دوبارہ احتجاج کیا، چیئرمین صادق سنجرانی نے سینیٹ کا اجلاس جمعہ تک ملتوی کر دیا۔

مشاہد اللہ پی آئی اے میں لوڈر بھرتی ہوئے، نواز شریف کا سامان اٹھاتے اٹھاتے سینیٹر بنے: فواد چوہدری

دریں اثنا وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے سینیٹ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کو لٹیروں کے احتساب کے لیے حکومت ملی ہے، پاکستان اسٹیل 200 ارب روپے نقصان میں ہے، پی ٹی وی، ریڈیو پاکستان اور ریلوے کے ادارے بھی خسارے میں ہیں۔

چیئرمین سینیٹ نے مجھے بات نہ کرنے دے کر جانب داری کا ثبوت دیا: فواد چوہدری

انھوں نے سینیٹ میں معافی پر کہا کہ کیا سینیٹ کے ایوان کو معافی مانگ کر چلایا جائے گا، حقائق کے بعد پتا چلے گا میں معافی مانگوں یا مشاہد اللہ قوم سے معافی مانگیں۔

فواد چوہدری نے چیئرمین سینیٹ پر جانب داری کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ انھیں مشاہد اللہ کے حوالے سے حقائق سینیٹ میں پیش نہیں کرنے دیے گئے، سینیٹ کی ایوی ایشن کمیٹی مشاہد اللہ کے پاس ہے، دودھ کی رکھوالی پر بلا بٹھا دیا گیا ہے، مشاہد اللہ جیسے لوگ پاکستان کی سیاست پر کلنک کا ٹیکہ ہیں۔


یہ بھی پڑھیں:  نواز شریف کیس میں ڈیل کی خبریں افواہ ہیں، فواد چوہدری


وزیرِ اطلاعات نے اعلان کیا کہ وہ مشاہد اللہ کے رشتے داروں کی تعیناتی کا معاملہ نیب کو بھیج رہے ہیں، وہ پی آئی اے میں لوڈر بھرتی ہوئے اور نواز شریف کا سامان اٹھاتے اٹھاتے سینیٹر بنے، راشد اللہ خان نیویارک سٹی کا آپریشن ہیڈ جب کہ ساجد اللہ خان کو نیویارک اسٹیشن میں اسسٹنٹ منیجر لگایا گیا۔

انھوں نے مزید بتایا کہ مشاہد اللہ نے 13 مزید قریبی رشتے داروں اور سیکڑوں جاننے والوں کو بھرتی کرایا، پی آئی اے کیسے تباہ نہ ہوتا، ان لوگوں نے سارا خاندان بھرتی کر رکھا ہے، ان کے سگے بھائی مجاہد اللہ خان فلائٹ اٹینڈنٹ ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں