اسلام آباد : سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ن لیگ کےاہم وزرا سے بات ہوئی ہے ، وہ بھی مفاہمت کے حامی ہیں، دو تین ہفتوں میں ہماری کوششوں کے نتائج آنا شروع ہوجائیں گے۔
تفصیلات کے مطابق سابق وفاقی وزیرفواد چوہدری نے اے آر وائی نیوز کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ مجھےارکان اسمبلی اورپرانےدوستوں کی کالزآتی ہیں کہ آپ بانی کےقریب رہےہیں کردار ادا کریں، ہم نےاتفاق رائے پیدا کیا کہ ٹکراؤ نہ ہو اور درجہ حرارت نیچے آئے جو وہ بات چیت سے ہوگا اور اسلام آباد پر چڑھائی سے تو درجہ حرارت نیچے نہیں ہوگا۔
سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہم بانی پی ٹی آئی کی رہائی چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ تحریک انصاف کے رابطے شروع ہوں، ن لیگ اور پی پی کو بھی اس کاحصہ ہونا ضروری ہے ، اس لیے ان کے لوگوں سے بھی ملیں گے۔
فواد چوہدری نے دعویٰ کیا میری ن لیگ کے اہم وزرا سے بات ہوئی ہے اور وہ بات چیت کرنا چاہتے ہیں ، ہم نے جو کوشش شروع کی ہے اگلے دو تین ہفتوں میں نتائج سامنے آنا شروع ہوں گے۔
انھوں نے کہا کہ حکومت میں بیٹھے چھ لوگ پریشان ہوجاتے ہیں اسی لیےک ل ہماری خبرلیک کروائی، حکومت کے کچھ لوگ سمجھنا شروع ہوجاتے ہیں کہ کہیں سیٹنگ ہوگئی تووہ فارغ ہوجائیں گے، ن لیگ اور پی پی والوں کویقین دلانا چاہتا ہوں اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہفتے بعد بانی وزیراعظم بن جائیں گے۔
شاہ محمود سے ملاقات کے حوالے سے سابق وزیر نے بتایا کہ شاہ محمود قریشی تو بانی پی ٹی آئی کےساتھ کھڑےہیں اوران کی منشا پر ہی عمل کریں گے، ف شاہ محمود قریشی چاہتےہیں کہ درجہ حرارت نیچےآئے اور بات چیت شروع ہو۔
ن لیگ کے وزرا سے ملاقات سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اگر ملاقات کرنیوالے ن کے وزرا کے نام بتا دیے تو ان کیخلاف پارٹی کےاندر ہی مخالفت شروع ہوجائے گی۔
پی ٹی آئی کا حصہ ہونے کے حوالے سے سوال پر فواد چوہدری نے جواب دیا کہ "میں 100 فیصد تحریک انصاف میں ہوں اور بانی پی ٹی آئی سے میری بات ہوچکی ہے، اگر پارٹی میں نہ ہوتا تو آج وزیر ہوتا۔”
ان کا مزید کہنا تھا کہ ابھی جو پی ٹی آئی کے باہر بیٹھے عہدیداروں کی تودہاڑیاں لگی ہوئی ہیں، میں نے کہا جو پارٹی کا حال ہے اور آپ جیل میں ہیں تواس کا ذمہ دار کوئی تو ہے اور وہ یہی ہیں، میں نےجیل میں بانی پی ٹی آئی سے کہا آپ نے 50ملین ڈالرز کی اکانومی ملک سے باہر بنادی ہے، یہ اکانومی آپ کے جیل جانے پر کھڑی ہے، جو یوٹیوبرز،وی لاگرز اورفنڈ ریزنگ والے کر رہے ہیں۔
سابق وزیر نے کہا کہ پچھلے دو ڈھائی سال سے ٹکراؤ کی پالیسی نے ہمارا کتنا نقصان کیا ہے تو کیا ہم یہی چلاتےرہیں گے، باہر بیٹھے لوگوں نے ہاتھ میں ماچس پکڑی ہوئی ہے، جن کاکام آگ لگاتے رہنا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ن لیگ والے نواز شریف سے بات کرکے ہی ہم سے ملیں گے، ہم تو چاہتے ہیں وزیراعظم شہبازشریف آگے آئیں اور نواز شریف سے ملکر بات کریں۔
نعیم اشرف بٹ اے آر وائی نیوز کے
تحقیقاتی صحافت کے ڈپارٹمنٹ کے سربراہ ہیں


