The news is by your side.

Advertisement

جعلی اکاؤنٹس کیس میں مرادعلی شاہ، آصف زرداری، فریال تالپورکا اہم کردار ہے، فوادچوہدری

اسلام آباد : وفاقی وزیراطلاعات فوادچوہدری کا کہنا ہے کہ کابینہ نے وزارت داخلہ کی 20افراد کےنام فوری ای سی ایل سے ہٹانے کی درخواست قبول کرنے سے معذرت کی ہے،  جعلی اکاؤنٹس کیس میں مرادعلی شاہ، آصف زرداری، فریال تالپورکا اہم کردار ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیراطلاعات فوادچوہدری نے میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا وفاقی کابینہ کی آج طویل میٹنگ ہوئی، جعلی اکاؤنٹس 172افرادکےنام ای سی ایل میں ڈالنے کا معاملہ زیر غور آیا، جےآئی ٹی کی ہوشربارپورٹ میں سندھ کی اہم شخصیات کےنام شامل ہیں اور جعلی اکاؤنٹس کیس میں مرادعلی شاہ،آصف زرداری،فریال تالپورکااہم کردار ہے۔

کابینہ کی وزارت داخلہ کے 20افراد کےنام فوری ای سی ایل سے ہٹانے کی درخواست قبول کرنے سے معذرت

فوادچوہدری کا کہنا تھا کہ جےآئی ٹی کی درخواست پرکابینہ نے172افرادکے نام ای سی ایل میں ڈالے تھے اور وزارت داخلہ نے درخواست کی20افراد کےنام فوری ای سی ایل سے ہٹا دیئے جائیں، کابینہ نےوزارت داخلہ کی درخواست فوری قبول کرنے سے معذرت کی ہے۔

وزیراطلاعات نے کہا سپریم کورٹ کاتفصیلی فیصلہ آنےکےبعدنام نکالنےسےمتعلق غورکیاجائے گا، جن 20 افراد کےنام کا کہاگیا ہے ان سے متعلق تفصیلی فیصلے کا انتظار ہے۔

سپریم کورٹ کاتفصیلی فیصلہ آنےکےبعدای سی ایل سے نام نکالنےسےمتعلق غورکیاجائے گا

معاشی صورتحال کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی شروع سےپالیسی تھی برآمدات کوخصوصی توجہ دیں گے، دسمبرمیں 4.5 فیصد برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں8.4 فیصد کمی آئی۔

فواد چوہدری نے کہا سپریم کورٹ نےحکم دیا تھا دہری شہریت والوں کیلئےسرکاری نوکریوں کاتعین کریں، وزارت قانون کو48گھنٹےمیں ایسی لسٹ فوری تیارکرنےکاحکم دیاگیا ہے۔

وزیراطلاعات کا گیس بحران سے متعلق کا کہنا تھا کہ گیس کمی سےمتعلق معاملےکوفوری طورپردیکھاگیا، ملک کی بڑی اکثریت گیس سےمحروم ہے،28فیصدلوگوں کوسسٹم گیس دی جارہی ہے، جوسسٹم گیس دی جارہی ہےوہ حکومت کوبہت مہنگی پڑرہی ہے۔

انھوں نے مزید کہا شاہدخاقان عباسی صاحب خودکو گیس کاآئن سٹائن سمجھتےہیں، انھوں نے گیس کی منسٹری سنبھالی توکوئی قرض نہیں تھا، وہ وزارت چھوڑکرگئےتوگیس پر157ارب کاقرض تھا۔

وزیراعظم کا وزیراعظم ہاؤس کےاسٹاف کاآڈٹ کرنےکاحکم

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ملک بھرمیں48ارب روپےکی گیس چوری ہورہی ہے، وزیراعظم ہاؤس سے متعلق بجلی کے بلز کی ایک خبر کل میڈیا پر چلی، وزیراعظم نے حیرت کا اظہار کیا کہ وہاں رہتے ہی نہیں تو اتنا بل کیسے آیا، وزیراعظم نےوزیراعظم ہاؤس کےاسٹاف کاآڈٹ کرنےکاحکم دیاہے، بجلی کازائدبل آنےپروزیر اعظم نےاسٹاف کےآڈٹ کےاحکامات دیئے۔

وفاقی حکومت سندھ میں اب براہ راست پیسے خرچ کرےگی

وفاقی وزیراطلاعات نے کہا کہ سندھ سے پیسوں کی منی لانڈرنگ روکنے کیلئے اقدامات کیےگئے ہیں، وفاقی حکومت سندھ میں اب براہ راست پیسے خرچ کرےگی، پیسےسندھ حکومت کودیئےجاتےتھےلیکن اومنی کاہاتھوں کہاں نکل جاتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ کہ کابینہ اجلاس میں چیف کمشنراسلام آبادعامراحمدعلی کوچیئرمین سی ڈی اے کا اضافی چارج اور ایئرمارشل ارشدملک کوپی آئی اےکےایڈیشنل ایم ڈی کاعارضی چارج دے دیا گیا ہے جبکہ وفاقی حکومت نےکراچی کی ترقی پرتوجہ دینےکافیصلہ کیاہے۔

فواد چوہدری نے مزید کہا ملک کی63فیصدآبادی ایل پی جی گیس استعمال کرتی ہے، یواےای کیساتھ ڈی سیلینیشن پلانٹ لگانےکامعاہدہ ہو گیاہے، ڈی سیلینیشن پلانٹ سےکراچی کامسئلہ کافی حد تک حل ہوجائےگا۔

وزیراعظم کی گیس کی جامع پالیسی فوری طورپرتیارکرنے کی ہدایت

وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نےگیس کی جامع پالیسی فوری طورپرتیارکرنے کی ہدایت کردی، عمران خان تو وزیراعظم ہاؤس میں مقیم نہیں توبل 44ہزار یونٹ کیسے آیا، نوازشریف دورمیں وزیراعظم ہاؤس میں88ہزاریونٹ بجلی استعمال ہوتی تھی، بجلی کےاس بل پروزیراعظم نےبرہمی کااظہارکیاہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں