خادم رضوی سمیت تحریک لبیک کے رہنماؤں پر بغاوت اور دہشت گردی کے مقدمات درج
The news is by your side.

Advertisement

خادم رضوی سمیت تحریک لبیک کے رہنماؤں پر بغاوت اور دہشت گردی کے مقدمات درج

آئین وقانون سے متصادم احتجاج پر ریاست خاموش نہیں رہے گی: فواد چوہدری

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ احتجاج کرنا سب کا آئینی اور قانون حق ہے، مگر  احتجاج میں کسی کو نقصان پہنچانےکی اجازت نہیں دے سکتے.

وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کرنے والوں کو کسی کی جان سے کھیلنے کا حق نہیں.

انھوں نے کہا کہ کچھ شرپسندعناصرنےنظام تہہ وبالا کرنے کی کوشش کی، آئین وقانون سے متصادم احتجاج پر ریاست خاموش نہیں رہے گی، ٹی ایل پی نے جس سیاست کی ابتدا کی، وہ قانون کے خلاف تھی، پاکستان کے آئین کو للکارا گیا، دھرنےمیں 6،7 کروڑروپے کی املاک کا نقصان ہوا.

انھوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والوں کے خلاف ایک بڑا آپریشن کیا گیا، ریاستی ادارے اور اپوزیشن بھی آپریشن پر آن بورڈ تھی.


مزید پڑھیں: خادم حسین رضوی کو حفاظتی تحویل میں لے کر مہمان خانے منتقل کیا گیا ہے، فواد چوہدری


ان کا کہنا تھا کہ تحریک لبیک کےتمام رہنماؤں کےخلاف قانونی کارروائی کی جائے گی، خادم رضوی کو بغاوت اور دہشت گردی کے ایکٹ میں چارج کر دیا گیا ہے، بغاوت ودہشت گردی دفعہ عائد کی گئی ہیں، افضل قادری ، عنایت حسین شاہ اور حافظ فاروق حسن کے خلاف بھی بغاوت اور دہشت گردی کے الزام پر چارج کر دیا گیا ہے،عدالتوں میں ٹرائل ہوگا، قانون کے مطابق سزا دی جائے گی. 

انھوں نے کہا کہ ٹی ایل پی رہنماؤں کےخلاف مقدمات انسداد دہشت گردی عدالتوں میں چلیں گے، پنجاب میں ٹی ایل پی کے 2899 افراد کوحفاظتی تحویل میں لیا گیا، سندھ میں 139، اسلام آباد میں 126 افراد کو تحویل میں لیا گیا.

انھوں نے کہا کہ پی ٹی ایم کے دو ایم این ایز کو کل دبئی جانے سے روکا گیا، انھیں ایف آئی آر  درج ہونے کی وجہ سے روکا گیا تھا، صوابی میں درج یف آئی آر پر ضمانت نہیں کرائی گئی.

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں