The news is by your side.

Advertisement

نوازشریف کی زندگی کو جیل سے زیادہ گھر سے خطرہ ہے، فواد چوہدری

اسلام آباد : وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ نوازشریف کی زندگی کو جیل سے زیادہ گھر سے خطرہ ہے ، یہ لوگ نوازشریف کی جان سے کھیل رہے ہیں اور ان کی کرسی کے پیچھے پڑے ہیں، نوازشریف کو باہر علاج کے لئے خاندان کی جانب سے روکنے کی مذمت کرتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے لوگ آج بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ سروس بحال ہونی چاہیے۔

نواز شریف کے حوالے سے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ نوازشریف جیل کی کسٹڈی میں زیادہ محفوظ تھے کیونکہ نوازشریف کی زندگی کو جیل سے زیادہ گھر سے خطرہ ہے، وہ اس وقت اپنے خاندان کی تحویل میں ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا اس کی عملی مثال ن لیگ کی سیاست ہے ، ن لیگ سے زیادہ ہمیں نوازشریف کی صحت کی فکر ہے، سنجیدگی ہوتی تو رات کو ہی پٹیشن تیار ہوتی اور فائل ہوجاتی ، ان لوگوں کو نواز شریف کی صحت اور باہر جانے سے کوئی دلچسپی نہیں ، شہباز شریف  ، مریم نواز ، خواجہ آصف اور احسن اقبال میں دوڑ چل رہی ہے، یہ لوگ نوازشریف کی جان سے کھیل رہے ہیں،ان کی کرسی کے پیچھے پڑے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف کو خطرہ ن لیگ کی لیڈر شپ اور گھر والوں کے رویے سے ہے، لگ نہیں رہا نوازشریف جاتی امرا میں محفوظ ہیں، ان کی صحت کے  معاملے پر پارلیمانی کمیٹی بننی چاہیے، حکومت نے نوازشریف کی بیرون ملک روانگی پر متوازن فیصلہ کیا ہے لیکن ان کے بھائی اور بچے انڈیمنٹی بانڈ  دینے کوتیار نہیں۔

فواد چوہدری نے مزید کہا کہ نوازشریف کا کردار پاکستان کی سیاست میں ختم ہوگیا ہے ، یہ لوگ نوازشریف کی جگہ لینے کے لئے سیاست کررہے ہیں ، نواز شریف   اور زرداری صاحب کی صحت کے لئے دعا گو ہیں، کچھ مقدمات انجام کو پہنچ چکے ہیں کچھ جو باقی ہیں انھیں بھی پہنچنا چاہیے۔

وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا کہنا تھا کہ نوازشریف کو باہر علاج کے لئے خاندان کی جانب سے روکنے کی مذمت کرتے ہیں، نوازشریف کے معاملے پر  حکومت   کو اب کچھ کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔

مولانا فضل الرحمان کے دھرنے سے متعلق انھوں نے کہا کہ مولانا صاحب کے پلان بی کو پلان اے کی طرح حل کریں گے ، انھوں نے جو بیانیہ یہاں دیا وہ شدت پسندی کا تھا، مولانا صاحب کی زیادہ تر لیڈرشپ میں جوکر تھے ، ان کے دھرنے سے مذہبی سیاست کو نقصان پہنچا ہے ، اللہ کا شکر ہے کہ مولانا صاحب کا دھرنا ناکام ہوا اور عام آدمی شریک نہیں ہوا، پلان بی سی ڈی ای کا آخر میں یہی ہوگا کہ اپنے اپنے کمرے بند کرلو۔

اس سے قبل فوادچوہدری نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو میں خواجہ آصف پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ خواجہ آصف طوطا مینا کی کہانی گھڑ رہے ہیں، لاء افسر کی حمایت کی وجہ سے نوازشریف کوضمانت ملی، خواجہ آصف لاء افسر کا نام بتائیں جس نے یہ بات کہی، اس وقت نواز شریف کی صحت سے ن لیگ کی قیادت کھلواڑ کررہی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ عدالت کو چاہیے ایک افسر متعین کرے جو نوازشریف کی صحت دیکھے، عدالت جو بھی حکم دے گی ہم اس کے پابند ہوں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں