The news is by your side.

Advertisement

‘اپوزیشن کیسز میں ریلیف پر بات کرناچاہتی ہے،وزیراعظم راضی نہیں’

اسلام آباد : وفاقی وزیرسائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کیسز میں ریلیف پر بات کرنا چاہتی ہے،وزیراعظم راضی نہیں۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیرسائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاحکومت اور اپوزیشن جماعتوں میں بات چیت ہونی چاہیے، جمہوریت میں اپوزیشن کے بغیر کام نہیں کیا جاسکتا۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومتوں کواصلاحات اور قانون سازی کیلئےاپوزیشن کی ضرورت ہوتی ہے، اپوزیشن سے مذاکرات 100 فیصد ہونے چاہییں، مسئلہ یہ ہے اپوزیشنچاہتی ہے صرف کیسزپرمذاکرات ہوں اور وزیراعظم اپوزیشن کے کیسز پربات چیت کیلئے تیار نہیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ اپوزیشن کوانتخابی اصلاحات پرمذاکرات کی دعوت دی گئی، وزیراعظم اصلاحات پر اپوزیشن سےگفتگوکیلئےتیار ہیں، اپوزیشن کیسز میں ریلیف پر بات کرناچاہتی ہے،وزیراعظم راضی نہیں، وزیراعظم عمران خان کااپوزیشن سے متعلق مؤقف واضح ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اندھے کوبھی نظر آرہاہے ان حالات میں جلسےکرنامناسب نہیں، یاتو ہم ساری قیادت کو جیل میں ڈال دیں اور کہیں جلسہ نہیں ہوگا، دوسرایہ ہےکہ عوام فیصلہ کریں کہ یہ کون لوگ ہیں؟

وفاقی وزیر نے کہا کہ جیلوں میں ڈال دیاتوکہیں گےظلم ہو گیاجمہوریت خطرےمیں آ گئی، پشاورمیں ناکامی کےبعدملتان کاجلسہ پی ڈی ایم کیلئے سیاسی جواہے، اپوزیشن میں تھوڑی سی بھی عقل ہوتو وہ یہ جلسہ منسوخ کر دے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اس وقت نواز شریف بےتاب ہیں، پی ڈی ایم کی منصوبہ بندی غصےپرمشتمل ہے جس پرناکامی کاسامنا ہے۔

فواد چوہدری نے بختاور زرداری کو منگنی کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا بختاور اور محمود دونوں کو جانتا ہوں، اللہ دونوں کو کامیاب ازدواجی زندگی گزارنے کی توفیق دے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلاول کوسب نےسمجھایا جلسے نہ کریں لیکن نہیں مانے، بلاول کیلئے گیٹ ویل سون، اللہ آپ کو جلدصحت دے، بلاول پاکستان کی اہم شخصیت ہیں ان کی صحت یابی کیلئےدعا ہے۔

چیئرمین پی ٹی وی تعیناتی سے متعلق وفاقی وزیر نے کہا نعیم بخاری کی بطورچیئرمین پی ٹی وی تعیناتی درست اقدام ہے، کوئی بھی چیئرمین آ جائےپی ٹی وی کےحالات زیادہ بہترنہیں ہو سکیں گے، جوگند پیپلز پارٹی اور ن لیگ نےڈال دیا اسےسنبھالنا ممکن نہیں، بہتر ہو گا حکومت پی ٹی وی کو پرائیویٹائز کردے، حکومتیں کہاں ٹی وی چلاتی ہیں، نجی سیکٹر کو کام کرنے دیاجائے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں