ملازمت سے کسی کو نہیں نکالا گیا صرف ان کی جگہ تبدیل کی گئی: وزیر اطلاعات -
The news is by your side.

Advertisement

ملازمت سے کسی کو نہیں نکالا گیا صرف ان کی جگہ تبدیل کی گئی: وزیر اطلاعات

اسلام آباد: وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم ہاؤس کے 508 ملازمین کو نکالا نہیں گیا، ملازمت سے کسی کو نہیں نکالا گیا صرف ان کی جگہ تبدیل کی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاہدے کی منظوری دی گئی۔ سعودی عرب کی جانب سے بڑی سرمایہ کاری پاکستان آئے گی۔ ’چین کی طرح سعودی عرب کے ساتھ بھی ہمارے قریبی تعلقات ہیں‘۔

انہوں نے بتایا کہ سعید احمد، طاہرہ رضا، سید طلعت محمود اور احسان الحق کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا، جمیل احمد، شمس الحسن سمیت دیگر غیر قانونی طور پر بھرتی افراد بھی برطرف کر دیے گئے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ سپریم کورٹ کے مطابق وفاقی حکومت ہی تعیناتیاں کر سکتی ہے، کابینہ ہی وفاقی حکومت ہے اور اپنے اختیارات استعمال کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم ہاؤس کو یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کے لیے اقدامات شروع کردیے۔ ایک کمیٹی ہے جس کی سربراہی شفقت محمود کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم ہاؤس میں موجود گاڑیاں اور بھینسیں نیلام کی گئیں، ’سمجھ نہیں آتی ایک شخص 8 بھینسوں کا دودھ کیسے پیتا تھا‘۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیر اعظم ہاؤس کے 508 ملازمین کو نکالا نہیں گیا، ملازمت سے کسی کو نہیں نکالا گیا صرف ان کی جگہ تبدیل کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ خورشید شاہ کمیٹی نے ایک لاکھ 38 ہزار لوگوں کو ریگولرائز کیا، خورشید شاہ نے بڑی تعداد میں لوگوں کو بغیر دیکھے ریگولرائز کیا۔ مشاہد اللہ نے اپنے رشتے داروں کو پی آئی اے میں بھرتی کروایا۔ ’ایسے آگے بڑھنا ہے تو پھر پاکستان آگے نہیں بڑھ پائے گا‘۔

فواد چوہدری نے کہا کہ پختونخواہ اور پنجاب میں سرکاری زمینوں کی نشاندہی ہوگئی ہے، پرویز خٹک کی سربراہی میں کمیٹی ان زمینوں سے متعلق اقدامات کرے گی۔ پنجاب کا گورنر ہاؤس 32 کنال پر مشتمل ہے اس کی کیا ضرورت ہے۔ سرکار کے وسائل ایسے ضائع کریں گے تو ملک کیسے آگے بڑھے گا۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری زمینوں کو استعمال میں لانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

وزیر پیٹرولیم سرور خان نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان گزشتہ ماہ سعودی عرب گئے تھے، وزیر اعظم عمران خان کا بھرپور استقبال ہوا، ملاقاتیں مفید رہیں۔ ’تاثر دیا گیا ہم امداد لینے سعودی عرب گئے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ہم امداد لینے نہیں سرمایہ کاری اور تجارت کے لیے سعودی عرب گئے، سعودی حکام نے کہا جہاں سرمایہ کاری چاہتے ہیں ہم آنے کے لیے تیار ہیں۔ پاور، پیٹرولیم اور دیگر سیکٹر میں سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ سعودی حکام نے کہا ہم فوری طور پر ریفائنری میں سرمایہ کاری چاہتے ہیں، ریفائنری میں سرمایہ کاری پر دونوں جانب سے دلچسپی دکھائی گئی۔ سعودی حکام کا وفد رواں ماہ یا آئندہ ماہ پاکستان کے دورے پر آئے گا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی حکام نے سی پیک میں شمولیت پر بھی اظہار دلچسپی کیا۔ سعودی شراکت داری پر چینی حکام کو کوئی تحفظات نہیں، چینی حکام خود چاہتے تھے سی پیک میں دیگر ممالک کو شامل کیا جائے۔

وزیر پیٹرولیم نے مزید کہا کہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ گیس کی قیمتوں میں 143 فیصد اضافہ کیا گیا، گیس کی قیمتوں میں اضافہ مخصوص سلیب کے لیے کیا گیا ہے۔ 5 سال گیس کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کو 2018 میں مکمل ہونا تھا، اسلام آباد ایئرپورٹ پروجیکٹ کی صورتحال بھی سامنے ہے۔ نیلم جہلم کی لاگت بڑھ گئی اور خاصیت میں کمی ہوئی۔ نیلم جہلم اور اسلام آباد ایئر پورٹ منصوبوں کا فرانزک آڈٹ کروائیں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں