منگل, اکتوبر 6, 2026
اشتہار

پی ٹی آئی کو توقع سے زیادہ حاصل ہوا، دہشت گردی کے خلاف کارروائی پر مزید مذاکرات ضروری ہیں، فواد چوہدری

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد: سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات میں بیش تر معاملات پر اتفاق کو اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف ممکنہ کارروائی ایک پیچیدہ اور حساس معاملہ ہے، جس کا تعلق براہِ راست لوگوں کی زندگیوں سے ہے، اس لیے موجودہ صورت حال میں مزید تفصیلی بات چیت ضروری ہے۔

فواد چوہدری کے مطابق اس معاملے پر وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا اور ان کی ٹیم سے براہِ راست مذاکرات کر کے انھیں تعاون کی نوعیت اور ضرورت سے آگاہ کیا جانا چاہیے۔

انھوں نے اپنے ایکس بیان میں کہا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات میں پیچیدہ سیاسی معاملات پر جب اتنی پیش رفت ہوچکی ہے تو نیشنل ایکشن پلان سے متعلق معاملہ بھی مذاکرات کے ذریعے طے ہونا چاہیے۔ انھوں نے ایکس پر لکھا ’’حکومت اور پی ٹی آئی میں مذاکرات ہونا اور 90 فی صد معاملات پر اتفاق بڑی کامیابی ہے، جہاں تک نیشنل ایکشن پلان کا تعلق ہے یہ بہت پیچیدہ معاملہ ہے۔‘‘

فواد چوہدری نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کا معاملہ محض سیاسی نوعیت کا نہیں بلکہ انتہائی اہم، سنجیدہ اور پیچیدہ نکات پر مشتمل ہے، جب کہ اس معاملے کا براہِ راست تعلق لوگوں کی زندگیوں سے ہے، اس لیے اسے جلد بازی میں طے نہیں کیا جانا چاہیے۔ انھوں نے لکھا ’’بہتر یہ ہوگا کہ پشاور کور وزیر اعلیٰ اور ان کی ٹیم سے براہ راست بات بھی کرے اور ان کو بتائے بھی کہ اس تعاون کی کیا شکل اور ضرورت ہے۔‘‘

ٹوئٹ میں چوہدری نے مزید لکھا ’’جہاں پیچیدہ سیاسی معاملات پر اتنی بات ہوئی ہے یہ معاملہ بھی طے ہونا چاہیے، دونوں طرف بہت اہم، سنجیدہ اور پیچیدہ نکات ہیں اور لوگوں کی زندگیوں کا سوال ہے!! اس لیے مزید تفصیلی بات چیت کے علاوہ کوئی چارہ نہیں!!‘‘

مذاکرات ناکامی میں کلیدی کردار محمود خان اچکزئی نے ادا کیا، ذرائع کا دعویٰ

پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کا اصرار ہے کہ نیشنل ایکشن پلان سے متعلق معاملے پر وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور ان کی ٹیم سے براہِ راست بات کی جائے۔ ادھر اپوزیشن سے مذاکرات کرنے والے حکومتی وفد کے ذرائع نے اپنے دعوے میں مذاکرات کی ناکامی کا سارا بوجھ خیبرپختونخوا حکومت پر ڈالا ہے، اور دعویٰ کیا ہے کہ صوبائی حکومت کی ہٹ دھرمی اور ضد کی وجہ سے مذاکرات ناکام ہوئے ہیں۔

ایک اور ٹوئٹ میں چوہدری نے مذاکرات پر تبصرہ لکھا کہ ’’منصفانہ طور پر دیکھا جائے تو پی ٹی آئی کو میری توقع سے زیادہ حاصل ہوا ہے۔‘‘ تاہم انھوں نے کہا کہ ’’دہشت گردی سے متعلق پیچیدہ معاملات پر مزید غور و خوض کی ضرورت ہے۔‘‘

فواد چوہدری نے کہا کہ دہشت گردی جیسے پیچیدہ معاملے پر فیصلہ سازی کے لیے صرف 72 گھنٹے کی مدت مقرر کرنا مناسب نہیں ہے، کیوں کہ اس نوعیت کے معاملات پر تفصیلی مشاورت اور غور و فکر کی ضرورت ہوتی ہے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ مذاکرات میں شامل حکومت اور پی ٹی آئی کے فریق جلد از جلد دوبارہ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے اور دہشت گردی سے متعلق اس معاملے کو بھی باہمی مشاورت سے طے کر لیا جائے گا۔

اہم ترین

رفیع اللہ میاں
رفیع اللہ میاں
رفیع اللہ میاں گزشتہ 20 برسوں سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں، ان دنوں اے آر وائی نیوز سے بہ طور سینئر صحافی منسلک ہیں۔

مزید خبریں