جب تک نواز شریف کے پراجیکٹس کا آڈٹ چل رہا ہے پی اے سی چیئرمین ہمارا ہونا چاہیے: فواد چوہدری -
The news is by your side.

Advertisement

جب تک نواز شریف کے پراجیکٹس کا آڈٹ چل رہا ہے پی اے سی چیئرمین ہمارا ہونا چاہیے: فواد چوہدری

اسلام آباد: وفاقی وزیرِ داخلہ فواد چوہدری نے کہا ہے کہ نواز شریف کے پراجیکٹس پر شہباز شریف کو چیئرمین کیسے لگا سکتے ہیں، جب تک نواز شریف کے پراجیکٹس کا آڈٹ چل رہا ہے پی اے سی چیئرمین ہمارا ہونا چاہیے۔

فواد چوہدری اے آر وائی نیوز کے پروگرام الیونتھ آور میں گفتگو کر رہے تھے، انھوں نے کہا کہ شہباز شریف جیل سے باہر ہوئے تو انھیں چیئرمین پی اے سی لگا دیجیے، جب ہمارے منصوبوں کا آڈٹ ہو تو بلاول یا شہباز شریف کو چیئرمین لگا دیں۔

اپوزیشن پارلیمنٹ میں قبرستان کی خاموشی چاہتی ہے، عافیہ صدیقی کا معاملہ پیچیدہ ہے ہم مثبت پیش رفت چاہتے ہیں، افغانستان کے ساتھ بہت سے سرحدی مقامات پر باڑ لگ گئی ہے۔

فواد چوہدری وفاقی وزیرِ اطلاعات

وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ اپوزیشن پارلیمنٹ میں قبرستان کی خاموشی چاہتی ہے، پارلیمنٹ کو قبرستان نہیں بننا چاہیے، مشاہد اللہ خان سے ہماری ذاتی لڑائی نہیں ہے، اپوزیشن چاہتی ہے ہم یہ باتیں نہ کریں تو ماحول ٹھیک رہے گا، چیئرمین سینیٹ بھی اپوزیشن کی باتوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔

خورشید شاہ نے 1996 کی پچھلی تاریخوں سے ایک لاکھ 63 ہزار لوگ مختلف اداروں میں بھرتی کیے، اس کا اثر یہ ہوا کہ اداروں میں لوگ ایک دن بھی دفتر نہیں آئے مگر اب پنشن لے رہے ہیں، لوگوں کو نہیں بتا سکتے انھوں نے کیا کیا اور ان کے ساتھ کیا ہونا چاہیے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ عافیہ صدیقی کا معاملہ پیچیدہ ہے، ہم مثبت پیش رفت چاہتے ہیں، حکومت سنبھالی تھی تو امریکا سے تعلقات بہت خراب تھے اب بہتر ہو رہے ہیں۔ پاکستان کا عالمی دنیا میں لیڈر شپ کا کردار بڑھتا جا رہا ہے، یمن کے معاملے پر بھی آفیشل سطح پر بات چیت آگے بڑھ چکی ہے۔


یہ بھی پڑھیں:  معاشی دہشت گردی کے ذمہ دار کا تعین کرنے کے لیے کمیٹی بنائی جائے: فواد چوہدری


وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ کے پی کے پولیس آفیسر طاہر داوڑ کے معاملے پر وزارتِ خارجہ حکام سے بات چیت ہوئی ہے، ان کی شہادت پر سینیٹ میں واضح پالیسی مؤقف جائے گا، پاکستان کے کسی بھی اہل کار یا سفارت کار کی حفاظت افغانستان کی ذمہ داری ہے۔ نظام میں خامیاں رہی ہیں، بہت سے سرحدی مقامات پر باڑ لگ گئی ہے۔

آسیہ بی بی کیس کے سلسلے میں فواد چوہدری نے کہا کہ اس معاملے پر ریویو پٹیشن سپریم کورٹ میں ہے، وہ جو فیصلہ کرے حکومت آئین کے تحت عمل در آمد کی پابند ہے، آسیہ کا نام ای سی ایل میں نہیں، وہ چاہیں توملک سے باہر جا سکتی ہیں، چوں کہ معاملہ ابھی عدالت میں ہے اس لیے عدالت کے فیصلے کو دیکھا جائے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں