The news is by your side.

Advertisement

زیادتی کیس میں زندہ جلا دیں، سر عام پھانسی دے دیں جیسے بیانات پر فواد چوہدری کا ردِ عمل

اسلام آباد: گجر پورہ زیادتی کیس کے سلسلے میں شدت پسندانہ بیانات دینے پر وفاقی وزیر فواد چوہدری نے سخت ردِ عمل دے دیا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق لاہور موٹر وے پر ایک خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے افسوس ناک واقعے کے ردِ عمل میں ایسے متشدد بیانات سامنے آ رہے ہیں جن میں کہا جا رہا ہے کہ مجرموں کو پکڑ کر زندہ جلا دیا جائے، انھیں سر عام پھانسی دے دی جائے، اور ان کے جسمانی اعضا کاٹ دیے جائیں۔

فواد چوہدری نے اس قسم کے بیانات پر اپنے ایک ٹویٹ میں ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کا ردِ عمل عوام کی جانب سے آنا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن وزرا اور پڑھے لکھے طبقات کی جانب سے ایسی باتوں کا سامنے آنا متشدد سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔

لنک روڈ کے افسوس ناک واقعے پر وزرا کی جانب سے بھی اسی طرح کے سخت بیانات جاری ہوئے ہیں، جس پر ردِ عمل میں فواد چوہدری نے کہا کہ یہ وہ سوچ ہے جو تشدد کو ہر مسئلے کا حل سمجھتی ہے۔

وقار کے بیان کے بعد ملزم عابد علی سے متعلق پولیس کو اہم معلومات مل گئیں

واضح رہے کہ بدھ کی رات تین بجے کے قریب گجر پورہ میں تین بچوں کی ماں سے اجتماعی زیادتی کا واقعہ پیش آیا تھا، خاتون بچوں کے ساتھ سفر کر رہی تھی، پٹرول ختم ہونے پر گاڑی بند ہو گئی، اس دوران دو ملزمان کھڑی گاڑی کا شیشہ توڑ کر خاتون کو قریبی جھاڑیوں میں لے گئے اور بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا، ملزمان نے ایک لاکھ نقدی اور زیورات بھی لوٹ لیے تھے۔

خاتون زیادتی کیس، مرکزی ملزم کے والد اور بھائی گرفتار

گجرپورہ گینگ ریپ کیس میں ایک ملزم وقار الحسن آج سی آئی اے کے دفتر میں پیش ہو کر گرفتاری دے دی ہے، اس نے بتایا کہ وہ جرم میں شریک نہیں تھا، مرکزی ملزم عابد بدستور مفرور ہے جب کہ وقار کے بیان کے بعد ایک اور مشتبہ شخص عباس سامنے آ گیا ہے جو وقار کا برادر نسبتی ہے اور لاپتا ہے۔

دوسری طرف پولیس نے چھاپے مار کر عابد کے والد، بیٹی اور دو بھائی حراست میں لے لیے، عابد شیخوپورہ سے عباس کے بھی دو بھائی بوٹا اور سلامت حراست میں لے لیے گئے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں