ترکی میں بغاوت : عوام کا نکلنا تاریخ کا پہلا اور انوکھا واقعہ تھا، فضل الرحمن -
The news is by your side.

Advertisement

ترکی میں بغاوت : عوام کا نکلنا تاریخ کا پہلا اور انوکھا واقعہ تھا، فضل الرحمن

کراچی : جمیعت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے ترکی کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے یہاں بھی اپوزیشن اورحکومت ایک ہوجاتی ہیں مگر مار کھانے کے بعد متحد ہوتی ہیں۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ترکی میں جمہوریت پر شب خون مارا گیا تو قوم ایک ہوگئی پاکستان میں بھی سب ایک ہوجاتے ہیں مگر مارکھانے کے بعد۔

ترکی کے اوپر سیکولیر ذہنیت نے 70 سال حکومت کی ہے، ترک قوم نے اقوام عالم کو ایک پیغام دیا ہے، تاریخ کا یہ پہلا اور انوکھا واقعہ تھا، جس میں جمہوریت کو تحفظ دینے کیلئے عوام آگے آئے۔

صومالیہ، کشمیر، مالی، چیچنیا، افغانستان میں ایک جیسے حالات ہیں،انہوں نے کہا کہ مسلکی اختلاف مناظروں سے ختم نہیں ہوگا، ہمیں ایک امت بننا چاہیے، انسان کا اولین حق اس کی آزادی ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عالم اسلام کے حکمرانوں سے ایک بات کہتا ہوں کہ نائن الیون کے بعد آپ نے ہمیں کہا کہ جو پالیسی اختیار کر رہے ہیں اس میں مصلحت ہے۔

اسلام دنیا کے حکمرانوں کی اس پالیسی کے نتیجے میں امت مسلمہ کہاں کھڑی ہے، عراق، شام، یمن، ساری امت مسلمہ میں آگ لگی ہوئی ہے، یہ پالیسی کا شاخسانہ ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ میں ایک طالب علم ہوں اور علماء کے قدموں میں زندگی گزری ہے، انہوں نے کہا کہ میں کردار کشی سے کبھی ڈرا نہیں، پاکستان میں برابری کی بنیاد پر سیاست کرتا ہوں۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں