The news is by your side.

Advertisement

مولانا پر قاتلانہ حملے کا خدشہ، بارود سے بھری گاڑی استعمال ہوسکتی ہے

اسلام آباد: وزارتِ داخلہ نے جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان پر قاتلانہ حملے کا خدشہ ظاہر کردیا۔

وزارت داخلہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق مولانافضل الرحمان پردہشت گردحملےکی منصوبہ بندی کا انکشاف ہوا ہے، دہشت گرد حملے کے لیے بارود سے بھری گاڑی استعمال کرسکتے ہیں۔ وزارت داخلہ کے مطابق دہشت گردفضل الرحمان پرقاتلانہ حملہ کرسکتے ہیں۔

وزارتِ داخلہ نے فضل الرحمان کی سیکیورٹی بڑھانے کی سفارش کرتے ہوئے پنجاب، خیبرپختونخواہ کے ہوم سیکریٹریز اور کمشنر اسلام آباد کو آگاہ بھی کردیا۔

ذرائع کے مطابق بھارت، افغانستان کی خفیہ ایجنسیاں را اور این ڈی ایس اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کے لیے مولانا کو نشانہ بناسکتی ہیں، اس مقصد کے لیے انہوں نے باقاعدہ دہشت گرد تیار کیے۔

مزید پڑھیں: جے یو آئی ف کے آزادی مارچ پر دہشت گرد حملے کا خطرہ ، الرٹ جاری

قبل ازیں وزارت داخلہ نے 25 اکتوبر کو الرٹ جاری کیا تھا کہ دہشت گردتنظیمیں آزادی مارچ کو نشانہ بناسکتی ہیں، دشمن ایجنسیوں نے مولانا فضل الرحمان اور دیگر قائدین کو نشانہ بنانے کے لیے ایک لاکھ ڈالر دہشت گردوں میں تقسیم کیے۔

مراسلے میں بتایا گیا تھا کہ ملک بھر میں قائم ہونے والے امن کو متاثر کرنے کے لیے دہشت گردی کی کارروائی کی جاسکتی ہے،سلیپر سیلز مقامی تعاون سےتخریب کاری کریں گے اور اپنا ہدف حاصل کریں گے۔

یاد رہے جے یو آئی ف کا حکومت مخالف آزادی مارچ کا آغاز  27 اکتوبر کو کراچی سے ہوا اور آج رات شرکا اسلام آباد پہنچ جائیں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں