اسلام آباد (08 نومبر 2025): ذرائع کا کہنا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کے 4 سینیٹرز نے مولانا فضل الرحمان کو 27 ویں آئینی ترمیم ماننے کا مشورہ دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق جے یو آئی سینیٹرز نے مولانا فضل الرحمان کو کہا ہے کہ ان پر 27 ویں ترمیم کے لیے حکومت کا بہت دباؤ ہے، سینیٹرز نے کہا ’’پیپلز پارٹی کی طرح 18 ویں ترمیم کو نہ چھیڑنے کے علاوہ ترامیم مان لیں۔‘‘
ذرائع کا کہنا ہے کہ جے یو آئی سینیٹرز نے فضل الرحمان کو آرٹیکل 243، آئینی عدالتوں، ججز ٹرانسفر، بلدیاتی نظام میں ترامیم کو تسلیم کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
سینیٹرز کے مشورے کے بعد مولانا فضل الرحمان نے ان سے کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے ماحول دیکھ کر حتمی فیصلہ کریں گے۔
آرٹیکل 243 میں تبدیلی ! چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ آرمی چیف کو دینے کی تجویز
واضح رہے کہ وفاقی کابینہ نے 27 ویں آئینی ترمیم کا مسودہ منظور کر لیا ہے، جس کے بعد ترمیمی بل سینیٹ میں پیش کیا گیا، اور چیئرمین سینیٹ نے بل قائمہ کمیٹی قانون وانصاف کے سپرد کر دیا ہے۔
وفاقی حکومت کی مجوزہ ستائیسویں ترمیم کے مسودے کے مطابق آرٹیکل 243 میں تبدیلی کا فیصلہ کیا گیا ہے، آرمی چیف، چیف آف ڈیفنس فورسز ہوں گے، فیلڈ مارشل، مارشل آف ایئر فورس، ایڈمرل آف دی فلیٹ کا عہدہ تاحیات ہوگا، اور مراعات بھی حاصل ہوں گی۔ صدر مملکت چیف آف آرمی اسٹاف کو بیک وقت چیف آف ڈیفنس فورسز کے طور پر مقرر کریں گے۔
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر دیا جائے گا، وفاقی حکومت کو اختیار ہوگا کسی افسر کو فیلڈ مارشل، مارشل آف دی ایئر فورس یا ایڈمرل آف دی فلیٹ کےعہدے پر ترقی دے۔ اعلیٰ عہدے رکھنے والےافسران قومی ہیروز قرار دیے جائیں گے۔


