The news is by your side.

Advertisement

معلوم ہے نرم لفظ شامل کرکے ناموس رسالت بل میں تبدیلی کس کی شرارت تھی، فضل الرحمان

نوشہرہ : سربراہ جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ توہین رسالت کے قانون پرحملہ کرنے کی کوشش کی گئی جسے ناکام بنایا، ہم نے چور کا راستہ کل بھی روکا تھا اور آج بھی روک رہے ہیں.

ان خیالات کا اظہار انہوں نے نوشہرہ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا، مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اسلامی پاکستان کو سیکولر ریاست بنانے کی کوشش کی جارہی ہے اور ہمیں پوری طرح اندازہ ہے کہ حقوق نسواں کے نام پرکس ایجنڈے پرکام ہو رہا ہے اور کون نرم لفظ کا سہارا لے کر ناموس رسالت قانون میں تحریف کرنا چاہتا ہے.

سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ ہمیں پاکستان کی اسلامی اور مذہبی حیثیت کا بھی تحفظ کرنا ہے اور دینی مدارس والوں نے ثابت کیا وہ پاکستان کے ساتھ ہیں اور پاکستان کے آئین و قانون میں رہ کرجہدوجد کے قائل ہیں جب کہ یہی علماء تھے جن کی یکجہتی نے اسلحہ اٹھانے والوں کو متاثر کیا اور وہ باز آئے.

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کچھ لوگ بحران پیدا کرنے کے ماہر ہوتے ہیں جب کہ جمعیت علمائے اسلام کا ماضی گواہ ہے کہ جمعیت کسی بھی بحران کو چند گھنٹوں میں حل کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے جس کی مثال ناموس رسالت بل اور قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے اخراج ہیں.

انہوں نے کہا کہ کہ ہرآدمی فاٹا کا چاچا ماما بنا ہوا ہے فاٹا کے معاملے پرسوچ سمجھ کر آگے بڑھنا چاہیے اور اس مسئلے کے حل کے لیے مشاورت بہترین راستہ ہے لیکن کچھ لوگ اسلام آباد میں دھرنا دینے گئے ہیں جن کا مفاد فاٹا سے نہیں بلکہ اپنے زاتی مفاد سے جڑا ہوا ہے.


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں