site
stats
پاکستان

کسی کو اسلام قبول کرنے سے نہیں‌ روکا جاسکتا، فضل الرحمن

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے نیشنل ایکشن پلان ختم کرنے کا مطالبہ کردیا اورکہا ہے نیشنل ایکشن پلان دباؤ کے تحت بنایاگیا جس کی کوئی وقعت نہیں ہے، سندھ اسمبلی کا اقلیتی بل تمام جماعتوں نے مسترد کردیا، کسی کو جبراً مسلمان نہیں کیا جاسکتا لیکن کسی کو اسلام قبول کرنے سے روکنا بھی ناقابل قبول عمل ہے۔

صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اتحادی ہونے کے باوجود نیشنل ایکشن پلان پر تحفظات ہیں، نیشنل ایکشن پلان دباؤ کے تحت بنایا، ہمیں بتایاجائے پلان سے دہشت گردی کا کہاں خاتمہ ہوا،ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی سے کوئی پکڑا جائے تو چھپایا جاتا ہے، مدارس سے کوئی پکڑا جائے تو معاملہ اچھالا جاتا ہے۔

طیارہ حادثے پر انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی ماہرین کی مانیٹرنگ ٹیم سے تمام طیاروں کا معائنہ کروایا جائے۔


یہ ضرور پڑھیں: سندھ اسمبلی: 18 سال سے کم عمرشخص کے اسلام قبول کرنے پر پابندی


سندھ اسمبلی سے منظور اقلیتی بل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام جماعتوں نے سندھ اسمبلی میں منظور اقلیتی بل کو مسترد کردیا ہے، جبراً کسی کو مسلمان نہیں بنایا جاسکتا لیکن کسی کو اسلام سے روکنا بھی ناقابل قبول عمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیلز پارٹی کے 4 نکات سے اتفاق نہیں،نیشنل سیکیورٹی کمیٹی قائم کرنے کا بھی مخالف ہوں،جماعت اسلامی پاناما پر کمیشن جبکہ تحریک انصاف سپریم کورٹ سے فیصلے کی خواہاں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ناکام شادیوں کی طرح عمران خان کی سیاست بھی ناکام ہوگئی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top