لاہور (6 ستمبر 2026): سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ صوبوں سمیت ہر موضوع پر ملکی سطح پر سیاسی مکالمہ ہونا چاہیے، ان کیمرہ پارلیمنٹ کا اجلاس بلا کر گفتگو کی جائے اور تمام اختلافات کو دلیل کے ساتھ دور کیا جائے۔
صحافیوں سے ملاقات کے دوران مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے، خیبر پختونخوا میں عملاً کوئی حکومت نہیں ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں طالبان نے اپنی حکومت بنائی ہوئی ہے، طالبان ان علاقوں میں حکومت سے بھی زیادہ ٹیکس وصول کر رہے ہیں، ہم بھتہ نہیں دیتے اس لیے ہم سے بھی بھتہ مانگا جاتا ہے، میرے بیٹوں و بھتیجوں پر حملے کیے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نئے صوبوں کی بات چھیڑ دی مگر تیاری کوئی نہیں، فضل الرحمان
انہوں نے کہا کہ صوبوں کے معاملے پر نواز شریف اور میری سوچ ایک جیسی ہوگی، یہ اور بات ہے کہ میں بول رہا ہوں اور وہ خاموش ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں نہ مقامی اور نہ ہی غیر ملکی سرمایہ کار سرمایہ کاری کر رہے ہیں، وسطی ایشیا کے ساتھ ہماری تجارت بالکل بند ہو چکی ہے، این ایف سی ایوارڈ اور صوبوں کا معدنی ذخائر پر اختیار وفاق کو ہضم نہیں ہو رہا، امریکی عہدیداروں نے بھی معدنیات میں دلچسپی ظاہر کی تھی، معدنیات میں وفاق، صوبوں اور عوام کا حصہ متعین ہونا چاہیے۔
سربراہ جے یو آئی (ف) نے مزید کہا کہ وسطی ایشیا کے ساتھ ہماری تجارت بند ہو چکی ہے، این ایف سی ایوارڈ اور صوبوں کا معدنی ذخائر پر اختیار ناقابلِ قبول بنایا جا رہا ہے۔


