The news is by your side.

Advertisement

اسلام آباد جانا ہمارا آخری اور حتمی فیصلہ ہے، مولانا فضل الرحمان

پشاور : جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانافضل الرحمان نے کہا ہے کہ اسلام آباد جانا ہمارا آخری اور حتمی فیصلہ ہے، اب یہ جنگ حکومت کے خاتمے پر ہی ختم ہوگی، ہماری جنگ کا میدان پورا ملک ہوگا، ملک بھر سے انسانوں کا سیلاب آرہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانافضل الرحمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ملک اس وقت معاشی لحاظ سے ڈوب رہا ہے، اس وقت ملک کا وجود خطرےمیں ہے، ہم نے ہر پاکستانی کی آواز بننا ہے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ایٹمی جنگ کی بات کرکے پاکستان کو عالمی کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا، جنگ کی دھمکیوں پر آنا سفارتی ناکامی کا اعتراف ہوا کرتا ہے، مکمل سفارتی ناکامی اور کشمیر کا مقدمہ لڑنے میں ناکام رہے۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ نے کہا کہ اب یہ جنگ حکومت کے خاتمے پر ہی ختم ہوگی، ہماری جنگ کا میدان پورا ملک ہوگا، ہماری حکمت عملی میں جمود نہیں ہوگا، بی اور سی پلان کی طرف بھی جائیں، ہماری حکمت عملی میں جنون نہیں ہوگا، صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی تبدیل کرتے رہیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پورے ملک سے سیلاب آئے گا اور جعلی حکمران تنکے کی طرح بہہ جائیں گے، عوام ہوں، تاجر طبقہ ہو سب اذیت میں ہیں، نوکریاں دینے کے بجائے 15 سے20 لاکھ افراد سے نوکریاں چھین لی گئیں۔

مزید پڑھیں : مدارس اصلاحات پر مولانا فضل الرحمان زیادہ پریشان ہیں، وزیراعظم

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اسلام آباد جانا ہمارا آخری اور حتمی فیصلہ ہے، سب کا اتفاق ہے کہ 25جولائی کے الیکشن جعلی تھے، دوبارہ الیکشن کے مطالبے پر اتفاق رائے موجود ہے، جب انسان میدان میں اترتا ہے تو گرفتاری کی پروا نہیں کرتا۔

سربراہ جے یو آئی ف کا کہنا تھا کہ آصف زرداری ہمارے مؤقف میں ہمارے ساتھ ہیں، سب سے ہمارے سیاسی رابطے ہیں، کہیں سے مایوسی نہیں مل رہی ، مدارس والا کام فیل ہوچکا ہے،اس سے طلبا اور مدارس پر کوئی اثر نہ ہوگا، عوامی سیلاب میں بہت کم تعداد مدارس کے طلبا کی ہوتی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ نیویارک میں کس سے ملاقات کی گئی یہ پاکستان کے نظام تعلیم کو مغرب کے تابع بنانا چاہتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ گرفتاری کا سوچ رہے ہیں تو اس سے اشتعال بڑھے گا، اشتعال قیادت کے ہاتھ میں ہے، قیادت گرفتار کی تو اشتعال رکے گا نہیں، عوام سے تصادم کی پالیسی اختیار کی گئی تو قصور کس کا ہوگا؟

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اسلام آباد کو سازشوں سے پاک کرنا ہوگا، واضح ناکامیوں کے باوجود اداروں کے ان کا ساتھ دینے پر حیرت ہے، ہم نے احتجاج کیا تو ہم عوام کی طرف کیا اس سے بڑی جمہوریت کیا ہوگی، ہم جمہوریت کے خلاف بات نہیں کررہے۔

سربراہ جے یو آئی ف نے کہا کہ آزادی مارچ میں ملک بھرسےلوگ اسلام آباد آرہے ہوں گے، دھرنے وغیرہ کو چھوڑ دیں یہ آزادی مارچ ہے، ملک معاشی ،خارجہ اور داخلی محاذ پر ڈوب رہا ہے، ہم بہت سی باتیں ابھی نہیں کر رہے، وقت کے ساتھ بتائیں گے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم آزادی مارچ کے لیے اپنے کارکنوں سے ہی چندہ مانگ رہے ہیں، آزادی مارچ کے لیے بیرون ملک سے مدد نہیں مانگ رہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں