The news is by your side.

Advertisement

کراچی میں ایف بی آر کو 8 بے نامی جائیدادیں ضبط کرنے کی اجازت مل گئی

کراچی: ایف بی آر حکام نے ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ نہ اٹھانے والوں کی جائیدادیں ضبط کرنا شروع کردیں، کراچی سے بھی ایف بی آر کو 8 بے نامی جائیدادیں ضبط کرنے کی اجازت مل گئی۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں بھی ایف بی آر کو 8 بے نامی جائیدادیں ضبط کرنے کی اجازت مل گئی، بے نامی جائیدادوں میں کراچی سول لائنز اور کلفٹن میں پلاٹس، ٹھٹھہ سیمنٹ فیکٹری اور نجی بینک میں شیئرز شامل ہیں۔

منی لانڈرنگ کیس کی جے آئی ٹی رپورٹ میں یہ جائیدادیں اومنی گروپ کی کمپنیوں کی بتائی گئی ہیں۔

اس سے قبل فیڈریل بیورو آف ریونیو کی جانب سے راولپنڈی میں بے نامی جائیدادوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے 7 ہزار کینال اراضی ضبط کرلی ہے، سینیٹرچوہدری تنویرکی 6ہزار بےنامی اراضی کا پتا لگایا گیا، بےنامی جائیداد چوہدری تنویر نے اپنے ملازمین کےنام بنا رکھی تھیں۔

مزید پڑھیں: بے نامی جائیدادیں ضبط ہونا شروع

یاد رہے کہ حکومت نے خفیہ جائیدادیں رکھنے والوں کے لیے ایمنسٹی اسکیم متعارف کرائی جس کی معیاد 30 جون تک تھی جس میں بعدازاں توسیع کردی گئی تھی جس کی مدت آج رات ختم ہوجائے گی، اس ضمن میں وزیراعظم پاکستان نے دو بار قوم کے نام خصوصی پیغام جاری کیا اور عوام کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ اپنی پراپرٹیز کو قانونی بنائیں اور ملک کی مدد کریں۔

چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کا کہنا تھا کہ یہ ایمنسٹی اسکیم نہیں بلکہ اثاثے ظاہر کرنے کا قانون ہے، بے نامی ایکٹ 2017 کو لوگ نظر انداز کررہے ہیں، 2018 میں جو ایمنسٹی اسکیم متعارف کرائی گئی اُس میں بے نامی ایکٹ کو نافذ نہیں کیا گیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں