اسلام آباد (13 جون 2026): فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سیلز ٹیکس انوائس کے اجرا اور ریکارڈنگ کا نیا طریقہ متعارف کروانے کا فیصلہ کر لیا۔
سینیٹ کی خزانہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 میں متعدد نئی ترامیم شامل کرنے کی تجویز پیش کی گئی جبکہ ایف بی آر نے ’ایڈوانس رسید انوائس‘ کے نئے نظام کے نفاذ کی تجویز دی۔
اس پر چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے سوال اٹھایا کہ ٹیکس تو آپ پہلے ہی کاٹ رہے ہیں تو ایڈوانس رسید انوائس کیوں؟ ایف بی آر حکام نے بتایا کہ سیلز ٹیکس انوائس کے اجرا اور ریکارڈنگ کا نیا طریقہ متعارف کروانے کا فیصلہ کیا ہے، نیشنل فیس لیس سینٹر کی قانونی تعریف سیلز ٹیکس ایکٹ میں شامل کر رہے ہیں، پیداوار اور فروخت کی نگرانی کیلیے ’پروڈکشن مانیٹرنگ سسٹم‘ متعارف کروانے کی شق بھی شامل کی ہے، سالانہ 20 کروڑ سے زائد ٹرن اوور رکھنے والے ریٹیلرز کو نئے ٹیکس نظام میں شامل کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر سے بینک اکاونٹ منجمد کرنے کا اختیار واپس لینے کا مطالبہ
سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ 20 کروڑ کی حد کو تو کم کرنا چاہیے تھا۔ اجلاس میں موجود وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ 20 کروڑ کے ٹرن اوور پر 25 ہزار روپے دینے ہوں گے، ایسا کرنے پر اس دکاندار کو ایف بی آر گرین پلیٹ دے گا، گرین پلیٹ رکھنے والوں کو ایف بی آر کے ایجنٹس تنگ نہیں کر سکیں گے، الیکٹرانک انوائسنگ کے نفاذ سے کاروباری لین دین کی مانیٹرنگ مزید مؤثرہوگی۔
بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ کاروباری افراد چاہتے ہیں کہ اسکیم آئے اور یہ ایک انسینٹو ہے، اگر کوئی اس اسکیم میں نہیں آتا تو وہ نارمل ٹیکس رجیم میں آئے گا، اگر کوئی دکاندار دونوں اسکیموں میں بھی نہیں آتا تو جرمانے ہوں گے، بڑے اور چھوٹے دکانداروں میں فرق کیا گیا ہے۔
ایف بی آر حکام نے اجلاس میں بتایا کہ ملک بھر میں 37 لاکھ کمرشل میٹرز ہیں جبکہ ہمارے پاس ایک لاکھ رجسٹرڈ ہیں، اگر باقی 36 لاکھ بھی تھوڑا بہت ٹیکس دیں تو اچھی رقم اکٹھی ہو سکتی ہے۔
اجلاس میں موجود وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ معاشی استحکام سے گروتھ کی طرف جانے کے اقدامات کیے ہیں، جس نے بھی سرمایہ کاری کرنی ہے وہ کرے گا، پارلیمنٹ نے اجازت دی کہ ٹیکس پالیسی اور ٹیکس کلیکشن الگ کی جائیں، بنیادی چیز آئی ہے کہ ٹیکس پالیسی کو الگ کیا گیا ہے، ٹیکس پالیسی آفس پورا سال تاجروں سے مشاورت کرتا رہے گا۔۔
ڈیبٹ کارڈ مشین لگانے کی شرط ختم
ایف بی آر حکام نے شرکا کو بریفنگ دی کہ ڈیبٹ کارڈ مشین کیش لیس اکانومی کے خلاف جا رہی ہے، دکاندار سوچتے ہیں کہ یہ لگائیں تو وہ ٹیئرون میں آ جاتے ہیں، بڑی دکانوں پر ڈیبٹ کارڈ مشین لگانے کی شرط ختم کی جا رہی ہے۔
اجلاس میں ممبر کمیٹی سینیٹر عبدالقادر نے سوال کیا کہ انڈیا میں تو ہر دکان پر کیو آر کوڈ لگا ہوا ہے۔ اس پر وزیر خارجہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ بھارت میں تو بھکاری بھی کیو آر کوڈز لے کر آ جاتے ہیں۔


