The news is by your side.

Advertisement

اس سال 10 ہزار آڈٹ کیے جائیں گے، عبدالحفیظ شیخ

اسلام آباد : مشیرخزانہ عبدالحفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ ایف بی آر نے ٹیکس نظام اور آڈٹ کے لئے بڑے فیصلے کئے ، ہم بے تحاشہ آڈٹ نہیں کرنا چاہتے ، کوشش ہے بہت کم لوگوں کا آڈٹ ہو اوراسے مکمل کیا جائے۔

تفصیلات کے مطابق مشیرخزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کمپیوٹرائزڈ آڈٹ کیلئے چناؤ کا آغاز کیا اور ارکان پارلیمنٹ کی ٹیکس ڈائریکٹری بھی جاری کردی۔

اس موقع پر مشیرخزانہ عبدالحفیظ شیخ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ایف بی آر نے دوبڑے فیصلے کیے ہیں، ایف بی آر چاہتا ہے ٹیکس کا نظام شفاف بنایا جائے، آج سے ٹیکس ادائیگی کے نظام کو آٹومیٹ اور کمپیوٹرائز کیاجارہا ہے۔

مشیرخزانہ کا کہنا تھا کہ ہم بے تحاشہ آڈٹ نہیں کرنا چاہتے ، ماضی میں بہت آڈٹ کیے جاتے تھے جو پایہ تکمیل تک نہیں پہنچتے تھے، گزشتہ سال14ہزار آڈٹ کیے گئے جو مکمل نہیں ہوئے ، اس سال 10ہزار آڈٹ کیےجائیں گے۔

عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ کچھ لوگوں کو ہم نے آڈٹ سے نکال دیا ہے ، بنیادی مقصد ہے نظام کو شفاف کیا جائے گا، ماضی میں لوگوں کے چننے کے اختیار کو ختم کیا جائے گا، ایک فیصد سے کم لوگوں کو آڈٹ کیا جائےگا ، کوشش ہے بہت کم لوگوں کا آڈٹ ہو اوراسے مکمل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگ چاہتے ہیں ٹیکس کرنے سے متعلق معلومات دی جائیں، 2018 کی ٹیکس ادئیگی کی مکمل تفصیلات آج شائع کی جارہی ہیں، 608ارب روپے ٹیکس ادا کرنے والوں کی تفصیل شائع کی جارہی ہے۔

مشیرخزانہ نے کہا کہ ایک جانب اچھے اندازسے ٹیکس جمع کرنے ہیں، دوسرے جانب کوشش ہے کاروباری اخراجات کی لاگت کم سے کم ہو، جو بھی ریفنڈہیں تیزی سے دیے جائیں گے ، ہم ایسی پالیسی لائے جس میں بزنس کمیونٹی کےلیے آسانی ہو۔

عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ حالیہ ختم ہوئےسال میں 240 ارب کے ری فنڈ دیے گئے ، امسال بھی ری فنڈ بغیر رکاوٹ اور رشوت دیے جائیں گے ، 2013سے اب تک ایک لاکھ کے انکم ٹیکس ری فنڈ کلیئر کردیے، اب ایک کروڑ روپے تک کے انکم ٹیکس ری فنڈ دیں گے، اس مد میں 28 ارب روپے ری فنڈ کیےجائیں گے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ایف بی آر کے بارے میں شکایات ختم کرنے کےلیےکمیٹیاں بنادی ہیں، کورونا کے باوجود برآمدات اورکاروباری سرگرمیاں بڑھیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں