اسلام آباد(22 ستمبر 2026): فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) کے گوداموں سے 25 کروڑ روپے مالیت کے قیمتی سگریٹ غائب ہونے کے بڑے اسکینڈل کا پردہ فاش ہو گیا ہے۔
ایف آئی اے اینٹی کرپشن سیل نے اس گھپل حوالے سے باضابطہ مقدمہ درج کر کے نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے شروع کر دیے ہیں۔مقدمہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایف آئی اے محمد سفیر احمد کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر میں ایف بی آر کے 5 افسران و عملہ اور ایک نجی کمپنی کے 3 مالکان کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔ نامزد سرکاری اہلکاروں میں انسپکٹر کامران، انسپکٹر نوید، ایک ڈرائیور، سیکیورٹی گارڈ اور نائب قاصد شامل ہیں جبکہ نجی کمپنی کے دو ڈائریکٹرز اور ایک منیجر کو بھی مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق فروری 2024 میں صوابی کے مقام پر سگریٹس کے 1262 کارٹن پکڑے گئے تھے جنہیں بعد میں مردان میں ایف بی آر کے ویئر ہاؤس میں رکھوایا گیا تھا۔
Follow US on ARY Tube
بعد ازاں ایف بی آر کے انسپکٹرز کامران اور نوید نے 1202 کارٹن مردان سے دوبارہ صوابی منتقل کیے۔ جب ٹرک صوابی گودام پہنچے تو جانچ پڑتال پر ان میں سے 908 کارٹن سگریٹس غائب پائے گئے۔
مقدمے کے متن میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ واقعے کے تین ماہ بعد 907 کارٹن دوبارہ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا، تاہم جب ایک سال بعد باقاعدہ انسپکشن کی گئی تو ان 907 کارٹن سمیت مجموعی طور پر 2828 کارٹن غائب پائے گئے۔
تحقیقاتی ٹیم کے مطابق سگریٹ چوری کے اس واقعے میں ایف بی آر کے انسپکٹرز اور عملہ براہ راست ملوث نکلا ہے جنہوں نے باہمی ملی بھگت سے سرکاری خزانے کو پچیس کروڑ روپے کا بھاری نقصان پہنچایا۔
ابتدائی تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ گوداموں میں دانستہ طور پر کوئی لاگ بک نہیں بنائی گئی اور نہ ہی وہاں سیکیورٹی کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے تاکہ اس چوری کو باآسانی چھپایا جا سکے۔ ایف آئی اے نے تمام شواہد اکٹھے کر کے ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔


