اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت میں جسٹس عامر فاروق نے آن لائن بینک فراڈ کے کیس کی سماعت میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا سارے ہیکرز بینکوں کے سسٹم کے اندر ہی موجود ہوتے ہیں، اکاؤنٹ بعد میں کھلتا ہے، ہیکرز کے پاس ڈیٹا پہلے پہنچ جاتا ہے۔”
تفصیلات کے مطابق وفاقی آئینی عدالت میں آن لائن بینک فراڈ کے کیس کی سماعت ہوئی ، جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
عدالت نے آن لائن بینکنگ فراڈ کے خلاف شہری کے حق میں بڑا فیصلہ سناتے ہوئے نجی بینک کی اپیل خارج کر دی ہے اور متاثرہ شخص کی رقم فوری واپس کرنے کا حکم دیا ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے بینکوں کے سیکیورٹی سسٹم پر شدید تنقید کرتے ہوئے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کا بھی ذکر کیا۔
دورانِ سماعت جسٹس عامر فاروق نے بینکوں کی نااہلی پر ریمارکس دیے کہ "سارے ہیکرز بینکوں کے سسٹم کے اندر ہی موجود ہوتے ہیں، اکاؤنٹ بعد میں کھلتا ہے، ہیکرز کے پاس ڈیٹا پہلے پہنچ جاتا ہے۔”
جسٹس عامر فاروق نے انکشاف کیا کہ خود انہیں بھی ایک نجی بینک کے اکاؤنٹ پر فراڈ کال موصول ہوئی، جس میں او پی ٹی مانگا گیا اور نہ دینے پر اکاؤنٹ بلاک کرنے کی دھمکی دی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ان کا اکاؤنٹ برسوں سے غیر فعال تھا، جس پر انہوں نے اسے بند کرنے کا کہہ دیا، بینک کا فرض ہے کہ وہ اپنا سسٹم مضبوط کرے، "لوگ بیچارے کدھر جائیں؟ اکاؤنٹ سے پیسے کیسے نکل گئے؟”
لیہ کے رہائشی ایک شہری کے اکاؤنٹ سے 2022 میں 15 لاکھ 34 ہزار روپے غائب کر دیے گئے تھے، نجی بینک کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ٹرانزیکشن شہری کی اپنی ایپ سے ہوئی تھی، جبکہ شہری کا کہنا تھا کہ اس کا نمبر چوری کیا گیا تھا۔
بینکنگ محتسب، صدرِ مملکت اور ہائیکورٹ پہلے ہی بینک کے خلاف فیصلہ دے چکے تھے، جسے اب وفاقی آئینی عدالت نے بھی برقرار رکھا ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


