The news is by your side.

Advertisement

انجکشن کا خوف موت کا سبب کیسے بن گیا؟

لندن : برطانیہ میں انجکشن (ٹیکوں یا سوئی چبھنے) کے خوف میں مبتلا ایک کمپیوٹر گیمز ڈویلپر ویکسین نہ لگوانے کی وجہ سے کورونا سے ہلاک ہوگیا۔

برطانوی میڈیا کے مطابق51 سالہ اسٹیورٹ گلِیرے کو کورونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد گذشتہ سال20 دسمبر کو ہسپتال لے جایا گیا تھا لیکن وہ ایک دن بعد ہی دم توڑ گئے۔

اب ان کی غمزدہ بیوہ نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ اگر وہ نروس بھی ہیں، تو بھی ویکسین لازمی لگوائیں۔

اپنی وفات سے کچھ دیر قبل اسٹیورٹ گلِیرے نے ہسپتال سے فیس بک پوسٹ پر کہا کہ "میری حالت اتنی اچھی نہیں ہے۔ یہ مجھے ٹھیک رکھنے کے لیے 95 فیصد آکسیجن فراہم کر رہے ہیں، جو سب سے زیادہ مقدار ہے”۔

انہوں نے اپنے ہاتھ پر لگے کینولا کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ "جو لوگ مجھے اچھی طرح جانتے ہیں، اس بات سے واقف ہیں کہ یہ مجھے پسند نہیں ہے۔”

واضح رہے کہ دو بچوں کے باپ اسٹیورٹ گلِیرے کی حالت اچانک خراب ہوگئی اور وہ کوما میں چلے گئے تھے، یہ بات بھی سامنے آئی کہ ان کے پھیپھڑوں کی حالت کی پہلے تشخیص نہیں ہوئی اور وائرس نے انہیں سانس لینے کے قابل بھی نہ چھوڑا۔

اسٹیورٹ گلِیرے گیمنگ انڈسٹری کی ایک نمایاں شخصیت تھے وہ ڈیویلپمنٹ کمپنی جسٹ ایڈ واٹر کے سی ای او تھے۔

ان کی بیوہ بیک گلِیرے نے دی ڈیلی ریکارڈ کو بتایا کہ ان کو سوئیوں سے اتنا زیادہ خوف تھا کہ اگر خون کا ٹیسٹ بھی کروانا ہوتا تو وہ ڈاکٹر کے پاس نہیں جاتے تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں