لاہور : وفاق اور پنجاب نے شدید موسمیاتی ایونٹس کے لیے ارلی وارننگ سسٹم پر اتفاق کرلیا، ایکسٹریم ویدر ایونٹ سے 6 گھنٹے پہلے باہمی کوآرڈینیشن پر اتفاق ہوا۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے ملاقات کی، جس میں سینئر وزیر مریم اورنگزیب، چیف سیکریٹری پنجاب اور این ڈی ایم اے کے چیئرمین بھی شریک ہوئے۔
اجلاس میں پنجاب کلائمیٹ ریزیلینس پلان پیش کیا گیا اور وفاقی و پنجاب حکومت نے شدید موسمیاتی حالات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق کیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ شدید موسمیاتی واقعات کے لیے ارلی وارننگ سسٹم کو مزید مؤثر بنایا جائے گا اور کسی بھی ایکسٹریم ویدر ایونٹ سے کم از کم چھ گھنٹے قبل وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مربوط رابطہ اور کارروائی یقینی بنائی جائے گی۔
پنجاب کے تمام اضلاع، ڈسٹرکٹ اور تحصیل سطح پر سینٹرلائزڈ انفارمیشن اسکرینز قائم کرنے کی تجاویز کا بھی جائزہ لیا گیا تاکہ عوام کو بروقت معلومات فراہم کی جا سکیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے مون سون اور ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے موک ایکسرسائز کرانے، پی ڈی ایم اے اور این ڈی ایم اے کے درمیان مزید مؤثر رابطہ قائم رکھنے، اوسط بارش اور ہیٹ ویو سے متاثرہ علاقوں کے لیے جامع ایڈوائزری جاری کرنے، شدید گرمی اور بارشوں کے دوران کنٹرولڈ ٹورازم یقینی بنانے اور اضلاع کی لاجسٹک استعداد بڑھانے کی ہدایت کی۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ حالیہ سیلاب بڑے پیمانے پر تھا، تاہم اللہ کے فضل سے صوبے میں کسی قسم کی وبا نہیں پھیلی، سیلاب متاثرین کو ادویات، خوراک، پینے کے صاف پانی اور رہائش سمیت تمام بنیادی سہولیات فراہم کی گئیں، جبکہ عوام کی سہولت کے لیے کلینک آن ویلز اور فیلڈ ہسپتال بھی تعینات کیے گئے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب حکومت نے پی ڈی ایم اے اور ریسکیو 1122 کو جدید خطوط پر استوار کیا ہے، جبکہ اربوں روپے کی لاگت سے پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ واسا اور ویسٹ مینجمنٹ کا نظام اب صرف لاہور تک محدود نہیں بلکہ پنجاب کے ہر ضلع تک پھیلا دیا گیا ہے۔ پہلے صرف دو شہروں میں واسا موجود تھا، جبکہ اب ہر ضلع میں واسا قائم کیا جا چکا ہے اور ہر ضلع کو جدید مشینری کے ساتھ اپنا آپریشنل فلیٹ بھی فراہم کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں شدید اور غیرمتوقع موسمی رجحانات خطرناک حد تک بڑھ رہے ہیں، جس کے پیش نظر پیشگی تیاری ناگزیر ہے۔
وفاقی وزیر مصدق ملک نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب حکومت کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، ماحولیات اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے شعبوں میں پنجاب نے مثالی اقدامات کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی شاندار کارکردگی کے سخت ترین مخالفین بھی معترف ہیں اور پنجاب میں جس رفتار سے ترقیاتی اور حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں، وہ قابلِ تعریف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ موسمیاتی تبدیلی کے شعبے میں وزیراعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں مل کر کام کرنے کے خواہاں ہیں۔
مصدق ملک کا کہنا تھا کہ بھارتی آبی جارحیت کے باوجود پنجاب نے گزشتہ سال بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ سیلاب کے دوران ریسکیو 1122، پی ڈی ایم اے اور دیگر اداروں نے بھرپور محنت کی، جس کے باعث بڑے جانی نقصانات سے بچاؤ ممکن ہوا اور صرف بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت ہے کہ تمام صوبوں کے ساتھ مل کر قومی موسمیاتی منصوبے پر کام کیا جائے، جبکہ وفاقی حکومت وزیراعظم کے وژن "فکس، ایکسپینڈ اینڈ بلڈ” پالیسی کے تحت پنجاب سمیت ہر صوبے کو ہر سطح پر مکمل تعاون فراہم کرے گی۔
سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے اجلاس کو پنجاب کلائمیٹ ریزیلینس پلان اور فلڈ 2025 کے اسنیپ شاٹ پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر وزیراعلیٰ مریم نواز شریف بروقت متحرک نہ ہوتیں تو سیلاب کے مسائل کئی گنا بڑھ سکتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے فلڈ ریسکیو اور ریلیف آپریشن کے لیے دن رات کام کیا اور ماضی کے برعکس متعلقہ اداروں کو آخری وقت کا انتظار کرنے کے بجائے پہلے ہی الرٹ کر دیا گیا، جس کے باعث بروقت اقدامات ممکن ہوئے۔


