The news is by your side.

Advertisement

وفاقی بجٹ ہیلتھ سسٹم کی بجائے اپنے اراکین اسمبلی کے لیے لایا گیا: بلاول کی تنقید

جیسے ہی شہباز شریف صحت یاب ہوتے ہیں تو اے پی سی بلائیں گے جس میں این ایف سی ایوارڈ پر بات ہوگی

کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم سمجھ رہے تھے وفاقی بجٹ کرونا روک تھام اور صحت کا نظام بہتر کرنے کے لیے ہوگا، لیکن یہ بجٹ تو ان کے اپنے ایم این ایز اور ایم پی ایز کے لیے ہے۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا وفاقی بجٹ میں صوبوں سے نا انصافی کی گئی، سندھ کو 229 ارب کم دیے جا رہے ہیں، پنجاب سے بھی بجٹ میں کٹوتی کی گئی، ٹڈی دل کے مسئلے کو بھی نظر انداز کیا گیا، این ایف سی میں صوبوں کو پورا حصہ دیا جائے۔

انھوں نے کہا ریاست پر ایسا وقت آتا ہے تو حکومت اتحاد قائم کرتی ہے لیکن جب سے کرونا آیا پی ٹی آئی نے تنازع کھڑا کیا، وزیر اعظم سیاست کر رہے ہیں، سندھ کے وزیر اعلیٰ سے لے کر وزرا تک کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا، اگر ہم اپنے حقوق کے لیے باہر نکلے تو کوئی نہیں سنبھال سکے گا۔

پی پی چیئرمین نے کہا تمام سیاسی جماعتوں نے بجٹ مسترد کر دیا، کرونا سے نمٹنے کے لیے وفاق غیر سنجیدہ ہے، وفاق سے اپیل کرتے ہیں اس وبا کو سنجیدہ لیں، امید تھی وفاق ہر صوبے کے لیے ہیلتھ پیکج دے گا، لیکن پی ٹی آئی کا بجٹ عوام کی صحت اور زندگی کو تحفظ نہیں دیتا، وفاقی حکومت نے ایسا بجٹ پیش کیا جیسے کرونا سے ہمیں خطرہ ہی نہیں یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا ہمارے اسپتالوں پر حملہ کیا جا رہا ہے، وفاقی حکومت ہمارے تین اسپتال کافی عرصے سے چوری کرنے کی کوشش کر رہی ہے، وفاق کو سندھ کے اسپتال چھیننے نہیں دیں گے، پی ٹی آئی کو چیلنج کرتا ہوں این آئی سی وی ڈی کی طرح کا ایک اسپتال دکھا دیں تو یہ اسپتال لے جائیں، ایل آر ایچ جو عمران خان کا رشتہ دار چلا رہا ہے اس کا جے پی ایم سی سے مقابلہ کر لیں۔

انھوں نے کہا جیسے ہی شہباز شریف صحت یاب ہوتے ہیں تو اے پی سی بلائیں گے، جس میں این ایف سی ایوارڈ پر بھی بات چیت کریں گے، پاکستان میں کرپشن موجود ہے، لیکن کرپشن کے خلاف مہم کرپشن ختم کرنے کے لیے نہیں ہو رہا، اس کا مقصد دوسرا ہے، کرپشن کا مقابلہ کرنا پڑے گا، عدلیہ میں بھی کرپشن ایشوز ہوں گے، جسٹس قاضی فائز کی جاسوسی کا معاملہ سامنے آیا یہ سنجیدہ معاملہ ہے، ججز کی جاسوسی کے معاملے پر جے آئی ٹی بنانی چاہیے۔

پی پی چیئرمین نے اختر مینگل کے اقدام کو ٹھیک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختر مینگل کو بلوچستان میں معاشی اور عوامی حقوق کی فکر ہے، اب ان کو وفاقی حکومت کے ساتھ رہنے کا حق نہیں بنتا، امید کرتا ہوں کہ اختر مینگل اپنے فیصلے پر قائم رہیں گے۔

لاڑکانہ میں دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا اپنے شہیدوں کے لیے میں دعا گو ہیں، سندھ حکومت دہشت گردی کے واقعات کی تحقیقات کر رہی ہے، ملوث ملزمان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں