The news is by your side.

Advertisement

وفاقی کابینہ کا سندھ حکومت کی جانب سے 6 سال پرانی گندم ریلیز کی رپورٹ پر اظہار تشویش

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کابینہ نے سندھ حکومت کی جانب سے 6 سال پرانی گندم ریلیز کیے جانے کی رپورٹ پر اظہار تشویش کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق آج وفاقی کابینہ اجلاس میں پرانی گندم ریلیز کرنے کے حوالے سے سامنے آنے والی چشم کشا رپورٹ زیر گفتگو آئی، رپورٹ کے مطابق سندھ حکومت نے 6 سال پرانی 32 ہزار ٹن گندم ریلیز کی تھی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ سندھ کی جانب سےگندم بر وقت ریلیز نہ کی گئی، سندھ حکومت نے گندم اور چینی کے اسٹاک کی معلومات بھی فراہم نہیں کیں، اس قدام سے اجناس کی قیمتوں میں مصنوعی اضافہ دیکھنے میں آیا، اور گندم کی بڑی مقدار ضائع ہونے سے عام آدی مشکلات کا شکار ہوا۔

دریں اثنا، وفاقی کابینہ نے ٹیکس قوانین میں ترمیم آرڈیننس 2021 کی منظوری دی، ان ترامیم کا مقصد ڈیجیٹل روشن پاکستان منصوبے میں سہولت کاری ہے، اب تک روشن پاکستان اکاؤنٹ میں 500 ملین ڈالر کی رقم آ چکی ہے۔ کابینہ نے مختلف شہروں میں مزید 30 احتساب عدالتوں کے قیام کی بھی منظوری دے دی۔

کابینہ کمیٹی توانائی کے اجلاس میں لیےگئے فیصلوں کی توثیق بھی کی گئی، کابینہ کو آئی پی پیز سے ہونے والے حکومتی مذاکرات پر بریفنگ دی گئی، جس میں کہا گیا کہ مذاکرات سے آئندہ 20 سال میں ملک کو 800 ارب روپے کا فائدہ ہوگا، آئی پی پیز کو تقریباً 400 ارب روپے کی ادائیگی پری آڈٹ کے بعد کی جا رہی ہے، یہ رقم حکومت کی جانب سے آئی پی پیز کو واجب الادا ہے۔

بتایا گیا کہ محمد علی رپورٹ میں سامنے آنے والی 57 ارب کی رقم سے متعلق کمیٹی قائم ہوئی، جو 2 جج صاحبان اور آڈیٹر پر مشتمل ہے جو جائزہ لے کر فیصلہ دے گی، اس کمیٹی کے فیصلے کے خلاف آئی پی پیز اپیل کے حق سے دست بردار ہو چکے ہیں، 12 آئی پی پیز 92 ارب روپے کا کیس جیت چکے تھے، مذاکرات کے نتیجے میں حکومت نے 32 ارب روپے بچائے ہیں، جس کا فائدہ بجلی نرخوں میں کمی کی صورت میں عوام کو میسر آئے گا۔

بریفنگ کے مطابق ان مذاکرات کے نتیجے میں حکومت اپنے کسی حق سے دست بردار نہیں ہوئی، وفاقی کابینہ نے مذاکراتی کمیٹی کی کاوشوں کو سراہا، وزیر اعظم نے کہا ملک کے کسی بھی حصے میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نہ کی جائے، اور تکنیکی وجہ پر ہونے والی لوڈ شیڈنگ کے ہر واقعے کا بغور جائزہ لیا جائے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں