اسلام آباد (09 نومبر 2025): پارلیمنٹ کی مشترکہ قانون و انصاف کمیٹی نے وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی منظوری دے دی۔
ذرائع کے مطابق 27 ویں آئینی ترمیم کے سلسلے میں پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی نے آئینی عدالت کے قیام کی منظوری دے دی، آئینی عدالت کے چیف جسٹس کی تقرری صدر مملکت کریں گے۔
کی گئی آئینی ترمیم کے مطابق آئینی عدالت کا سربراہ باقی ججز کی نامزدگی خود کرے گا، اور آئینی عدالت 7 ججز پر مشتمل ہوگی۔
قائمہ کمیٹی نے ججز ٹرانسفر کے حوالے سے آئینی ترمیم کی منظوری بھی دے دی ہے، اس ترمیم کے تحت جو جج ٹرانسفر پر رضامند نہیں ہوگا اسے ریٹائرڈ تصور کیا جائے گا، ریٹائرڈ جج کو مراعات اور پنشن دی جائے گی۔
شہباز شریف کی ہدایت پر وزیر اعظم کے استثنیٰ سے متعلق تجویز واپس لے لی گئی
اے این پی نے 27 ویں آئینی ترمیم کے مسودے میں اپنی جانب سے خیبرپختونخوا کے نام سے خیبر ہٹا کر پختونخوا رکھنے کی ترمیم پیش کی، اور مؤقف رکھا ہے کہ خیبر ضلع ہے اور دیگر صوبوں میں نام کے ساتھ ضلع کا نام نہیں لکھا جاتا۔
اجلاس میں زیر التوا مقدمات فیصلے کی مدت 6 ماہ سے بڑھا کر ایک سال کرنے کی ترمیم بھی منظور کر لی گئی، ایک سال تک مقدمہ کی پیروی نہ ہونے پر اسے نمٹا ہوا تصور کیا جائے گا۔ ایم کیو ایم کے بلدیاتی نمائندوں کو فنڈ سے متعلق ترمیم پر اتفاق کر لیا گیا ہے، مشترکہ پارلیمانی کمیٹی اجلاس میں بلوچستان اسمبلی کی نشستیں بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے، بلوچستان اسمبلی کی کتنی نشستیں بڑھائی جائیں گی، اس پر بات ہونا باقی ہے۔


