پیر, جون 15, 2026
اشتہار

اسلام قبول کرنے والی 19 سالہ عائشہ سے متعلق وفاقی آئینی عدالت کا بڑا فیصلہ

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد : وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرنے والی خاتون عائشہ کو مرضی سے رہنے کی اجازت دے دی اور والدین کی درخواست نمٹا دی۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے پسند سے اسلام قبول کرنے والی لاہور کی رہائشی خاتون عائشہ (سابقہ نام سونیا) کو اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے اور رہنے کی مکمل قانونی اجازت دے دی۔

چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں قائم دو رکنی بنچ نے عائشہ کے والدین کی جانب سے دائر کردہ حوالگی کی درخواست کو میڈیکل رپورٹ کی روشنی میں باقاعدہ نمٹا دیا ہے۔

سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ گزشتہ سماعت پر لڑکی کی دستاویزات اور اس کے اپنے دعوے میں عمر کا فرق سامنے آنے پر عدالت نے عمر کے حتمی تعین کے لیے میڈیکل کرانے کا حکم دیا تھا۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو آگاہ کیا کہ عدالتی حکم پر لڑکی کا میڈیکل ٹیسٹ مکمل کروا لیا گیا ہے، انہوں نے میڈیکل رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ رپورٹ کے مطابق عائشہ کی عمر اس وقت 19 سے ساڑھے 19 سال کے درمیان ہے، یعنی وہ قانونی طور پر مکمل بالغ ہے۔

ایڈوکیٹ وسیم ممتاز اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے دلائل اور میڈیکل رپورٹ کے معائنے کے بعد جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ "چونکہ میڈیکل رپورٹ سے ثابت ہو چکا ہے کہ بچی بالغ ہے، اس لیے قانون کے مطابق اس کو اپنی مرضی سے جہاں چاہے رہنے اور زندگی گزارنے کی مکمل اجازت ہے۔”

تاہم، عدالت نے عائشہ کو اخلاقی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے والدین ان سے ملاقات کرنا چاہیں تو وہ ان کی بات مانیں اور ملاقات کریں۔

عائشہ نے عدالت کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ "میں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے، لیکن میرے والدین مجھ پر اسلام چھوڑنے اور دوبارہ کرسچن ہونے کے لیے شدید دباؤ ڈال رہے ہیں، اس لیے مجھے تحفظ فراہم کیا جائے۔”

عدالت نے عائشہ کے بالغ ہونے کی تصدیق کے بعد دارالامان کی پابندی ختم کرتے ہوئے انہیں اپنی مرضی کے مطابق جانے کی اجازت دے دی اور والدین کی پٹیشن خارج کر دی۔

کیس کی پس منظر کے مطابق، لاہور کی رہائشی سونیا نے اپنی مرضی سے دینِ اسلام قبول کر کے اپنا نام عائشہ رکھا تھا، جس کے بعد پوزیشن واضح نہ ہونے پر عدالت نے گزشتہ سماعت پر عائشہ کو مستقل فیصلے تک دارالامان منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔

+ posts

اہم ترین

مزید خبریں