اسلام آباد(16 جولائی 2026): وفاقی آئینی عدالت نے نابالغ بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک بڑا اور تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے نابالغ بچوں کے مقدمات میں سرپرست کی تقرری کو لازمی قرار دے دیا ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ آئندہ کم عمر بچوں کے حقوق کا تحفظ کیے بغیر مقدمات کے فیصلے نہیں کیے جائیں گے۔عدالتی فیصلے کے مطابق، نابالغ بچوں، ضعیف افراد اور پردہ نشین خواتین کے مقدمات میں کسی بھی قسم کا کوئی بھی سمجھوتہ عدالتی جانچ سے مشروط ہوگا۔
وفاقی آئینی عدالت نے حکم دیا ہے کہ کسی بھی مقدمے کے آغاز پر ہی کم عمر فریق کا تعین لازمی طور پر کیا جائے گا، اور کم عمر افراد کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایسے شخص کو سرپرست مقرر کیا جائے گا جس کا اپنا کوئی ذاتی مفاد نہ ہو۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ نابالغ سے متعلق ملکیت کے تنازع میں اب کوئی غیر ضروری عجلت نہیں کی جائے گی۔ اس اہم فیصلے کے ساتھ ہی وفاقی آئینی عدالت نے متعلقہ کیس میں لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے اور ٹرائل کورٹ کو نئے سرے سے مقدمے کی کارروائی چلانے کی ہدایت کر دی ہے۔
واضح رہے کہ اس مقدمے میں سول کورٹ کی جانب سے ایک سمجھوتے کی بنیاد پر کیے گئے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا، جس پر درخواست گزار نے مؤقف اپنایا تھا کہ سمجھوتے کے دوران نابالغ بچوں کے حقوق کا تحفظ نہیں کیا گیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے اس اہم فیصلے کی نقول ملک بھر کی تمام سول اور ریوینیو کورٹس کو بھجوانے کا بھی حکم جاری کیا ہے۔


