The news is by your side.

توشہ خانہ پرسیاست کرنیوالی حکومت اپنی باری پر بھاگ گئی ، تحائف کی تفصیل دینے سے انکار

لاہور : وفاقی حکومت نے عدالت کو توشہ خانہ کےتحائف کی تفصیل دینےسےانکار کردیا اور کہا بین الاقوامی تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں، جس پر عدالت نے وکیل کو ریکارڈ کے ساتھ بیان حلفی جمع کرانے کی ہدایت کردی۔

تفصیلات کے مطابق اہور ہائی کورٹ میں جسٹس عاصم حفیظ نےتوشہ خانہ سے تحائف وصول کرنے والی شخصیات کی تفصیلات فراہم کرنے کے حوالے سے درخواست کی سماعت کی ۔

پی ڈی ایم کی وفاقی حکومت نے جواب میں معلومات پبلک کرنےسےمعذرت کرلی اور کہا میڈیا ہائپ کی وجہ سےبین الاقوامی تعلقات متاثرہوسکتےہیں۔

کابینہ ڈویژن کی جانب سے داخل جواب میں کہا گیا کہ دوہزارپندرہ میں توشہ خانہ کی تفصیلات کوخفیہ رکھنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔۔ انفارمیشن کو آرڈیننس دوہزاردو کے سیکشن پندرہ کے تحت تحفظ حاصل ہے، اس لیے درخواست مسترد کی جائے۔

جسٹس عاصم حفیظ نے ریمارکس دیے توشہ خانہ کے ہیڈ آف ڈپارٹمنٹ کا بیان حلفی دیں کہ کیسے یہ تحائف خفیہ ہیں؟ عدالت مطمئن ہوئی کہ واقعی یہ تحائف خفیہ ہونے چاہئیں تو پبلک کرنے کا حکم نہیں دے گی۔

جسٹس عاصم حفیظ نے کہا آپ نےجواب میں لکھا ہےکہ توشہ خانہ کے تحائف منظرعام پر آنے سے میڈیا ہائپ بن جاتی ہے، کیا صرف یہی وجہ ہےکہ توشہ خانہ کےتحائف خفیہ رکھے جاتے ہیں؟ اس میں ملکی سلامتی اور بین الاقوامی تعلقات کہاں سے آگئے؟

عدالت نے استفسار کیا اگر ایک بی ایم ڈبلیو گاڑی کا تحفہ آتا ہے اور کہا جاتا ہے اس کےبدلے ایل این جی کا ٹھیکہ دیں تو پھر کیا ہوگا؟

عدالت نے وفاقی حکومت کے وکیل کو توشہ خانہ کے ریکارڈ کے ساتھ بیان حلفی جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے مزید سماعت سات فروری تک ملتوی کردی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں