The news is by your side.

Advertisement

‘میں اگر سیاست میں ہوں تو عمران خان کی وجہ سے ہوں’

خوشی ہے ایسے لیڈر کا ورکر ہوں جو مزدوروں کیلئے سوچتا ہے

اسلام آباد : وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کا کہنا ہے کہ حکومت کی سوچ کا محور مزدور کی فلاح ہے ، خوشی ہے ایسے لیڈر کا ورکر ہوں جو مزدوروں کیلئے سوچتا ہے، میں اگر سیاست میں ہوں تو عمران خان کی وجہ سے ہوں۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے یوم مزدور کے موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا وزیراعظم نے اسلامی فلاحی ریاست کےاصول کے مطابق پروگرام تشکیل دیا، حکومت کی سوچ کا محور مزدور کی فلاح ہے ، مزدور جب شہروں میں آتے تھے توکبھی دیہاڑی ملتی تھی کبھی نہیں، وزیراعظم عمران خان نے مزدوروں کو ریاست کا مہمان بنایا۔

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ مزدوروں کی فلاح و بہبود حکومت کی ترجیح ہے ، کوروناکےدوران وزیراعظم نے مزدوروں کیلئے پروگرام تشکیل دیا، کورونا کے بعدکی صورتحال کاسب سےزیادہ بوجھ مزدوروں پر پڑا، کورونا لاک ڈاؤن کی وجہ سےمزدور اپنی دیہاڑی سے محروم ہوگئے۔

شبلی فراز نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے پہلےمزدوروں کیلئے 200ارب کا پیکج دیا ، احساس پروگرام کے ذریعے مستحقین کو12 ہزار دیئے جا رہے ہیں، وزیراعظم نے جتنے بھی اقدامات کئے وہ مزدور کی بھلائی کیلئے کئے، خوشی ہے ایسے لیڈر کا ورکر ہوں جو مزدوروں کیلئے سوچتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے میڈیا کے بقایاجات سےمتعلق میکنزم بنالیا ہے، میڈیا ورکرز کی تنخواہوں کا بھی تحفظ کیا جائے گا، حکومت میڈیا انڈسٹری کے مسائل کو بھی ترجیحی بنیاد پر حل کرے گی۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کے تاثرپر ہمیں تنقید کا بھی نشانہ بنایا گیا، خان صاحب کا ویژن تھا بغیر سیاسی فائدے منظم طریقے سے رقم پہنچائی جائے، ایس اوپیز کےتحت کاروبار کو فیزون اور فیز ٹو میں تقسیم کیا ہے، عوام سے درخواست ہے کورونا صورتحال میں احتیاط کو نہ چھوڑیں۔

شبلی فراز کا کہنا تھا کہ مکمل لاک ڈاؤن سے سب سے پہلے دیہاڑی دار اور چھوٹا دکاندار متاثرہوگا، پاکستان کوروناصورتحال میں مکمل لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہوسکتا، ایس اوپیز پر عملدرآمد کیساتھ معیشت کے پہیے کو چلانا چاہتے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ایسالاک ڈاؤن چاہتےہیں کہ اجتماعات کےمقامات پر عوام جمع نہ ہوں،معیشت کاپہیہ چلتارہے، ملکی بقا کے معاملے کو ایک ٹیم کے طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کاپہلے دن سے مؤقف ہے مکمل لاک ڈاؤن نہیں کرسکتے، قرضوں میں ڈوبا ملک ہے مکمل لاک ڈاؤن کردیں تو کاروبار کیسے چلےگا، صنعتوں سے متعلق لائحہ عمل تیار کررہے ہیں، سیاسی مخالفت اپنی جگہ مگر عوام کیلئےسب کوساتھ لیکر چلنا چاہتے ہیں۔

شبلی فراز نے بتایا کہ میرا سیاسی بیک گراؤنڈ ہے ،جنرل صاحب اس شعبے میں مہارت رکھتےہیں، میں، عاصم سلیم باجوہ صاحب اور وزارت کے لوگ ٹیم کا کردار ادا کریں گے اور ایسی پالیسی وضع کریں گے جو پاکستان کے مفادات کا تحفظ کرے۔

انھوں نے کہا کہ ایک ٹیم بن کرکام کریں گے ،یہاں بٹوارے کی کوئی بات نہیں ،سیاست، ملکی صورتحال میں حالات، لوگ اور اسٹریٹجی بدلتی رہتی ہے،وقت ،حالات دیکھ کر ٹیم کوتبدیل کرنا وزیراعظم کی صوابدید ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ میں اگر سیاست میں ہوں تو عمران خان کی وجہ سے ہوں ، اگرعمران خان سیاست میں نہ ہوتے تو میں بھی نہیں ہوتا، اس بات سے اختلاف کرتا ہوں کہ وہ نہیں چل سکےتوہم کیاچلیں گے۔

اپوزیشن کے حوالے سے شبلی فرار نے کہا کہ پارلیمنٹ کےاندر یا باہر ہم نے اپوزیشن کا کردار بھی دبنگ اندازمیں نبھایا، امید ہے اپوزیشن جمہوری دائرے میں رہ کر اپنا کردار ادا کرے گی، مجھے کوئی کنفیوژن نہیں بالکل واضح ہے کہ کس کا کیا کردار ہوگا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں