site
stats
پاکستان

وفاقی وزیرسمیت حکومتی اراکین کا اپنی ہی حکومت کے خلاف اسمبلی سے واک آؤٹ

اسلام آباد : وفاقی وزیر ریاض پیرزادہ سمیت 12 حکومتی اراکین نے مبینہ آئی بی لسٹ میں اپنے نام آنے اور انتخابی اصلاحات کی متنازعہ شق پر احتجاج کرتے ہوئے قومی اسمبلی کے اجلاس سے واک آؤٹ کیا تاہم دیگر اراکین کے سمجھانے پر ناراض اراکین اسمبلی واپس آگئے.

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کے آج کے سیشن میں اس وقت دلچسپ صورت حال پیش آ گئی جب حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر سمیت 12 اراکین اسمبلی نے اپنی حکومت کے خلاف احتجاجآ اسمبلی سیشن سے واک آؤٹ کرتے ہوئے اجلاس سے باہر آگئے.

بعد ازاں وزیر مملکت مریم اورنگزیب کی جانب سے وضاحت اور دیگر حکومتی وزراء کے منانے پر روٹھے ہوئے اراکین اسمبلی نے واک آؤٹ ختم کردیا اور دوبارہ اسمبلی میں واپس آگئے جس پر حکومتی بینچوں نے ڈیسک بجا کر ان کا استقبال کیا.

قبل ازیں وفاقی وزیر ریاض الدین پیرزادہ نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے پارلیمنٹیرینز کی انکوائری کرنے اور آئی بی کی جانب سے منظرعام پر آنے پر والی مبینہ فہرست پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کی انکوائری کا مطالبہ کیا اور سوال اُٹھایا کہ وزیراعظم ہاؤس سے لیٹرآیا تو کس معلومات کے لیے آیا ہے؟

ریاض پیرزادہ نے آئی بی چیف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آئی بی چیف کا نام چیئرمین نیب کیلئے بھی آرہا ہے جن کی جانب سے ایک دستاویز جاری کی گئی جس میں مجھ سمیت کئی پارلیمنٹیرینزکو دہشت گردوں سے روابط رکھنے اور کالعدم جماعتوں سے تعلقات رکھنے والا کہا گیا اور اس رپورٹ میں پارلیمنٹیرینز کی نگرانی کا بھی کہا گیا ہے.

 اسی سے متعلق : الیکشن بل2017میں ترمیم اتفاق رائے سے منظور ، ختم نبوت ﷺ کا حلف نامہ بحال

وفاقی وزیر ریاض پیرزادہ نے کہا کہ میں اگردہشت گرد ہوں تو وزیر کیوں ہوں؟ اس لیے میں چاہتا ہوں کہ معاملے پر وزیراعظم ہاؤس ایکشن لے اور صفائی دے نا کہ یوں ہماری تذلیل نہ کی جائے چنانچہ اپنی اس بے عزتی میں وفاقی وزیر ہوتے ہوئے بھی اسمبلی سے واک آؤٹ کرتا ہوں.

اس موقع پر اپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا کہ آپ جس فہرست کی بات کر رہے ہیں اسے خود آئی بی نے جعلی قرار دیتے ہوئے وضاحت دی تھی کہ ایسی کوئی فہرست جاری نہیں کی گئی ہے اور سوشل میڈیا پر گردش کرتی یہ فہرست جعلی اور بے بنیاد ہے چنانچہ اس مسئلے کو طول نہ دیا جائے.

تاہم وفاقی وزیر ریاض پیشادہ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ تحقیقات کرائی جائیں کہ پارلیمنٹیرینز سے متعلق ایسی رپورٹ کیوں سامنےآ ئی؟ اور یہ فہرست سفارت خانوں میں بھی گئی ہوگی تو کیا ہمیں ویزے ملیں گے؟ اور آئی بی کی اس فہرست کے بعد ہمارے بچوں کا مستقبل کیا ہوگا؟

سابق وزیراعظم اور موجودہ حکومتی رکن قومی اسمبلی ظفر اللہ جمالی نے کہا کہ ناموس رسالت کی شق میں تبدیلی والے بل کو لانے والوں کو سزا ملنی چاہیئے لیکن یہاں کوئی کچھ بات کرتاہے تو کوئی کچھ اور، اس بے بہتر ہے کہ خدا اس پارلیمنٹ کو موت دے دے اور یہ موت میری موت سے پہلے آجائے.


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top