بدھ, اگست 12, 2026
اشتہار

پمز اسپتال میں نزلہ، زکام اور بخار کے مریضوں کو نہیں آنا چاہیے، وفاقی وزیر صحت

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد (7 جولائی 2026): وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پمز اسپتال میں نزلہ زکام اور بخار کے مریضوں کو نہیں آنا چاہیے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق اسلام آباد میں قریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ ہم پمز اسپتال پر مریضوں کا بوجھ کم کرنا چاہتے ہیں، اسلیے پمز اسپتال میں نزلہ، زکام اور بخار کے مریضوں کو نہیں اؔنا چاہیے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پمز اسپتال 1984 میں بنا تھا۔ اس وقت اسلام آباد کی آبادی ساتھ لاکھ جب کہ آج 50 لاکھ کو چھو رہی ہے۔ پہلے 200 مریض آتے تھے، اب روزانہ 7 سے 9 ہزار مریض آتے اور ان کے ساتھ لواحقین میں 35 سے 40 ہزار لوگوں کا جلسہ ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں صحت کی آئیڈیل صورتحال نہیں، پرائمری ہیلتھ سسٹم ابھی تک مستحکم نہیں ہے اور اس میں ہماری اپنی کوتاہی ہے۔

پمز اسپتال میں فیراپلس مشین فعال ہو چکی ہے اور اب یہاں دل کے مریضوں کا علاج مفت کیا جائے گا۔ آج سے پہلے اس حوالے سےکچھ الجھنیں تھیں جنہیں اب کم کر دیا گیا ہے۔

’پمز اسپتال کے ڈاکٹرز نے بائیوپسی کے دوران پھیھپڑے کے بجائے جگر کا سیمپل لیا‘

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں