بدھ, جون 17, 2026
اشتہار

وفاقی شرعی عدالت کا خودکشی قانون سے متعلق بڑا فیصلہ

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد(18 مئی 2026): فیڈرل شریعت کورٹ (ایف ایس سی) نے پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) 1860 کی دفعہ 325 کو دوبارہ بحال کر دیا ہے، جس کے تحت خودکشی کی کوشش کرنا اب ایک بار پھر جرم شمار ہوگا۔

عدالت نے کرمنل لاز ایکٹ 2022 کو جس کے ذریعے خودکشی کی کوشش کو جرم کی فہرست سے نکالا گیا تھا، غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے منسوخ کر دیا ہے۔ یہ محفوظ شدہ فیصلہ جسٹس اقبال حمید الرحمان، جسٹس ڈاکٹر سید محمد انور اور جسٹس امیر محمد خان پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے سنایا۔

پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی دفعہ 325 کے مطابق "جو کوئی بھی خودکشی کی کوشش کرے گا اور اس جرم کے ارتکاب کے لیے کوئی قدم اٹھائے گا، اسے ایک سال تک کی سادہ قید، یا جرمانہ، یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

اس قانون کے خاتمے کو ایڈووکیٹ حماد سعید ڈار نے فیڈرل شریعت کورٹ میں چیلنج کیا تھا، جن کا مؤقف تھا کہ اس قانون کو ختم کرنا قرآن و سنت کے احکامات کے منافی ہے۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ کرمنل لاز ایکٹ 2022 کو اسلامی احکامات کے برعکس قرار دیا جائے۔ عدالت کے اس تازہ فیصلے کے بعد اب پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 325 ملک میں دوبارہ نافذ العمل ہو گئی ہے۔

واضح رہے کہ دسمبر 2022 میں اس وقت کے صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کرمنل لاز ایکٹ 2022 کی منظوری دی تھی، جس کے تحت خودکشی کی کوشش سے متعلق دفعہ 325 کو ختم کر دیا گیا تھا۔

یہ ترمیمی بل پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر شہادت اعوان نے ستمبر 2021 میں پیش کیا تھا، جسے مئی 2022 میں سینیٹ اور اکتوبر 2022 میں قومی اسمبلی سے منظور کیا گیا تھا۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں