The news is by your side.

Advertisement

وہ خطرناک بلی، جس کا حملہ 60 فیصد کامیاب ہوتا ہے

افریقا میں پائے جانے والی بلی دنیا کے سب سے خطرناک شکاری جانوروں میں شمار ہوتی ہے کیونکہ یہ ایک سال میں تین ہزار سے زیادہ جانوروں کا شکار کرتی ہے۔

براعظم افریقا کے صرف تین ملکوں (بوٹسوانا، نمیبیا اور جنوبی افریقا) میں پائی جانے والی اس بلی کا سائنسی نام ‘فیلس نیگریپیس’ ہے جسے عام زبان میں “سیاہ پیروں والی” افریقی بلی‘‘ کہا جاتا ہے۔

بلی جسامت صرف 8 سے 10 انچ تک ہوتی ہے، عام طور پر ایسے جنگلات میں رہنا پسند کرتی ہے جہاں پرندے اور کتر کر کھانے والے چھوٹے جاندار بڑی تعداد میں ہوتے ہیں، دوسرے کئی جانوروں کی طرح یہ بھی دن میں سوتی ہے اور رات کو جاگتی ہے۔

اپنی مختصر جسامت کے باوجود یہ افریقی بلی شکار کے معاملے میں شیر اور چیتے سے بھی زیادہ ماہر ہے جس کا حملہ 60 فیصد تک کامیاب رہتا ہے، اس کے مقابلے میں شیر کے حملے 20 سے 25 فیصد تک ہی کامیاب ہوتے ہیں۔

وائلڈ لائف کے عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ یہ بلی ایک رات میں اوسطاً 10 سے 14 چھوٹے جانوروں یا پرندوں کا با آسانی شکار کرلیتی ہے، البتہ یہ انسان پر حملہ آور نہیں ہوتی۔

افریقی بلی اتنا زیادہ شکار کیوں کرتی ہے؟

ماہرین کے مطابق اس میں ہاضمے کا نظام غیرمعمولی طور پر مؤثر اور تیز رفتار ہے جس کی وجہ سے یہ جو کچھ بھی کھاتی ہے، وہ تھوڑی دیر بعد ہی ہضم ہوجاتا ہے؛ اور اسے بھوک محسوس ہونے لگتی ہے، اسی لئے لہٰذا اپنی بھوک مٹانے کےلیے یہ لگ بھگ پوری رات ہی شکار میں گزار دیتی ہے۔

اپنے بہترین اور قدرتی ’’نائٹ وژن‘‘ کی بدولت یہ گھپ اندھیرے میں بھی اپنا شکار دیکھ لیتی ہے اور اس پر تیزی سے جھپٹ پڑتی ہے، تاہم مسلسل بڑھتی ہوئی انسانی سرگرمیوں نے جہاں دوسرے جانوروں اور ان کے قدرتی مساکن کو تباہ کیا ہے، وہاں اس ننھی سی افریقی بلی کا زندہ رہنا بھی مشکل سے مشکل ہوتا جارہا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں