The news is by your side.

Advertisement

کم عمری کی شادیوں کے خلاف برسر پیکار افریقی لیڈر

مشرقی افریقی ملک ملاوی میں ایک ضلع کی انتظامی صدر نے کم عمری کی شادیوں کے خلاف اقدامات کرتے ہوئے زبردستی شادی کے بندھن میں بندھی ہوئی بچیوں کو اسکول بھیجنا شروع کردیا۔

ملاوی میں کم عمری کی شادیوں کا رجحان دنیا میں سب زیادہ پایا جاتا ہے۔

یہاں ہر 2 میں سے 1 لڑکی کی شادی 18 سال کی عمر سے پہلے کردی جاتی ہے یعنی ملک کی تقریباً نصف سے زائد بچیاں ناپسندیدہ شادی کے رشتے میں جکڑی ہوئی ہیں۔

تاہم جھیل ملاوی کے ساتھ واقع ضلع دیدزا کی انتظامی سربراہ تھریسا اس رجحان کے خلاف بھرپور اقدامات کر رہی ہیں۔

تھریسا اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے زبردستی کی شادی کے بندھن میں بندھی بچیوں کو نجات دلا چکی ہیں۔ وہ اب تک 24 سو شادیوں کو منسوخ کرچکی ہیں۔

اپنے ان اقدامات کی وجہ سے تھریسا اپنے ضلع میں ایک مقبول ترین شخصیت بن چکی ہیں۔ ان کے مداحوں میں وہ والدین بھی شامل ہیں جو صرف سماجی و خاندانی روایات سے مجبور ہو کر اپنی بچیوں کو کم عمری میں بیاہ دیتے ہیں۔

تھریسا شادی سے نجات پانے والی ان بچیوں کو دوبارہ اسکول بھیج رہی ہیں۔ اس کے لیے وہ ملک بھر سے رقم جمع کرتی ہیں جو ان بچیوں کی تعلیمی ضروریات پوری کرنے میں کام آتی ہے۔

براعظم افریقہ میں کم عمری کی شادیوں کا رجحان خطرناک حد تک بلند ہے۔ کچھ ممالک میں اس رجحان کے خلاف کام کیا جارہا ہے اور کئی افریقی ممالک میں اس پر پابندی عائد کی جاچکی ہے۔

سنہ 2016 کے وسط میں گیمبیا اور تنزانیہ میں کم عمری کی شادی کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔ جرم کا ارتکاب کرنے والے افراد کے لیے سخت سزاؤں کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔

تھریسا کو امید ہے کہ ملاوی میں بھی اس رجحان کے خلاف آگاہی پیدا ہوگی اور بہت جلد وہ اس تباہ کن رجحان سے چھٹکارہ پالیں گے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں