The news is by your side.

Advertisement

دونوں ہاتھ پیر کٹنے کے باوجود باہمت خاتون نے بڑی کامیابی حاصل کرلی

ممبئی : جسمانی طور پر معذوری کا شکار کوئی مرد اگر بڑی کامیابی حاصل کرلے تو یہ کسی کارنامے سے کم نہیں ہوتا لیکن اگر عورت ہوتے ہوئے اتنی ہمت اور استقامت کا مظاہرہ کیا جائے تو یہ بھی کسی معجزے سے کم نہیں۔

کچھ ایسی ہی مثال اکیاون سالہ بھارتی تعلیم یافتہ خاتون کی ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ اور پیر کٹ جانے کے بعد بھی ہمت نہ ہاری اور اپنا مشن جاری رکھا۔

اکیاون سالہ بھارتی خاتون ٹیچر پرتیبھا حلیم کو تین سال قبل ایک بہت بڑے اور جان لیوا امتحان سے گزرنا پڑا جب ایک ناسور بیماری (گینگرین)کی وجہ سے ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے گئے تھے۔

یہ ان کے لیے انتہائی تکلیف دہ اور مشکل مرحلہ تھا مگر وہ اس خوفناک آزمائش سے گزر کرایک بار پھر اپنے پیشے سے جڑگئی ہیں اور بچوں کو پڑھانا شروع کردیا ہے۔

پرتیبھا بچوں کو کیسے پڑھاتی ہیں؟
ہاتھوں اور پیر سے معذور پرتیبھا بمبئی کے مشرقی علاقے کے ایک مضافاتی اور پسماندہ گاؤں میں بچوں کو پڑھاتی ہیں جہاں تعلیمی مواقع بہت کم ہیں۔ کمرہ جماعت میں جب اُنہیں قلم یا چاک پکڑنا ہوتی ہے تو وہ قلم یا چاک کو اپنے کٹے بازو سے باندھ لیتی ہیں۔

پرتیبھا نے میڈیا کو بتایا کہ میں بچوں سے پیار کرتی تھی اور اب بھی کرتی ہوں اگر میں بے کار بیٹھی رہتی تو میں اب کسی دوسری دنیا میں ہوتی جو میرے ساتھ ہوا اسے مسلسل یاد کرتی ہوں اسے بھول نہیں پاتی۔

سال2019 میں پرتیبھا پر ڈینگی بخار کا شدید حملہ ہوا اور اس کی حالت گینگرین کی وجہ سے خراب ہوگئی جس کی وجہ سے اس کے دائیں ہاتھ کو کاٹنا پڑا، چند ہفتوں بعد سرجنوں کو اس کا بایاں ہاتھ بھی کاٹنا پڑا۔ پھر دونوں ٹانگیں گھٹنوں کے نیچے تک کاٹنا پڑیں۔

باہمت خاتون نے کہا کہ جب ڈاکٹروں نے میرا ایک ہاتھ کاٹا تو میں مستقبل میں کچھ کرنے کی صلاحیت کی امید کھو بیٹھی۔ میں افسردہ ہوگئی، میں نے آٹھ دن تک کسی سے بات نہیں کی۔

لیکن پرتیبھا نے ایک بار پھر محسوس کیا کہ اس کی زندگی اس کے خاندان کے تعاون سے دوبارہ پڑھانے کی بدولت قیمتی ہونے لگی ہے، خاندان نے صحت یابی کے دوران انہیں دوبارہ بچوں کو پڑھانے کی ترغیب دی۔

سال 2020 میں جب کوویڈ-19 وبائی امراض کی وجہ سے اسکول بند ہوگئے تھے تو پرتیبھا نے ایک مقامی پرائمری اسکول میں جس میں انہوں نے تین دہائیوں تک کام کیا تھا کے طلباء کو گھروں میں پڑھانا شروع کیا۔ اس سے ان طلبا کو فائدہ پہنچا جن کے والدین آن لائن تعلیم کے ذرائع سے استفادے کے اہل نہیں تھے۔

اگرچہ اسکولوں نے چند ماہ قبل حاضری کے اسباق دوبارہ شروع کیے تھے لیکن گاؤں کے 40 بچے پرتیبھا سے ٹیوشن لیتے رہے۔

معذور ٹیچر بچوں کو پڑھنے اور سیکھنے کا عمل جاری رکھنے کی ترغیب دینے کی کوشش کرتی رہتی ہیں تاکہ ایک دن وہ اپنی قسمت کا فیصلہ خود کر سکیں، پرتیبھا فی الحال مصنوعی ہاتھ پیر لگوانے کا انتظار کر رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں نے اپنے اعضاء کے کٹنے کے بعد سوچا کہ میں اب کسی چیز کے قابل نہیں رہی لیکن میں نے جلد ہی ایک پختہ فیصلہ کرلیا کہ میں سب کچھ کر سکتی ہوں اور میں سب کچھ کروں گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں