The news is by your side.

Advertisement

روس : فٹبال ورلڈ کپ کی لائیو کوریج کے دوران خاتون صحافی ہراساں

ماسکو : روس میں فٹبال ورلڈ 2018 کی برائے راست نشریات کے دوران اوباش نوجوان کی جانب سے خاتون صحافی کو ہراساں کرنے پر دنیا بھر میں تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق روس میں جاری فٹبال رولڈ کپ 2018 کے دوران جرمن نشریاتی ادارے سے تعلق رکھنے والی خاتون صحافی جولیتھ گونزالیس تھیران کو فٹبال مقابلوں کی برائے راست کوریج کے دوران اوباش نوجوان رخسار پر بوسہ دے کر فرار ہوگیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ جرمن نشریاتی ادارے کے لیے رپورٹنگ کرنے والی خاتون صحافی نے نوجوان کی بہودہ حرکت پر جذباتی ہونے کے بجائے خود پر قابو رکھا تاہم خاتون صحافی کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا منظر دنیا بھر برائے راست دیکھا گیا۔

روس میں فٹبال کے مداح کی جانب سے ہراساں کیے جانے کے بعد خاتون صحافی نے سماجی رابطے کی ویب سایٹ انسٹا گرام پر دیئے گئے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’خواتین صحافیوں کو عزت دیں‘۔

جرمن نشریاتی ادارے ڈچ ویل سے منسلک خاتون صحافی کا کہنا تھا کہ ’میں فٹبال ورلڈ کپ کے دوران کھیلے جانے والے میچز کی برائے راست رپورٹ دینے کے لیے گذشتہ دو گھنٹے سے تیاری کر رہی تھی لیکن کسی نے ایسی نازیبا حرکت نہیں کی۔

جولیتھ گونزالیس نے کہا کہ ’جب برائے راست نشریات کا آغاز ہوا تو اوباش نوجوان نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میرے رخسار پر بوسہ لیا اور فرار ہوگیا‘۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق خاتون صحافی جولیتھ گونزالیس کو ہراساں کرنے کا واقعہ روس کے شہر سارانسک میں جمعے کے روز پیش آیا تھا۔

جولیتھ گونزالیس کا اپنے پیغام میں کہنا تھا کہ ’میرے ساتھ روس میں جو نازیبا حرکت ہوئی وہ ہرگز قابل برداشت نہیں، خواتین صحافی مردوں کے شانہ بشانہ پیشہ ورانہ صحافتی امور انجام دے رہی ہیں اور برابری کے حقوق کی حق دار ہیں‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’تمام ممالک کے شہری فٹبال ورلڈ کا جشن منارہے ہیں لیکن اپنی حدود کا تعین کرتے ہوئے ایک دوسرے کی عزت اور احترام کا بھی خیال رکھیں‘۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں