کالعدم بی ایل ایف کی خاتون خودکش بمبار کے سہولت کار منظور احمد کی اہلیہ، رحیمہ بی بی نے دہشت گردوں کے نیٹ ورک اور افغانستان میں ان کی پناہ گاہوں سے متعلق اہم انکشافات کیے ہیں۔
رحیمہ بی بی کے مطابق ان کا شوہر ایک نامعلوم خاتون کو گھر لے کر آیا اور اسے ’مسافر‘ قرار دے کر قیام کرایا۔ منظور احمد اس دوران اپنی اہلیہ کا موبائل فون استعمال کر کے مذکورہ خودکش بمبار خاتون سے رابطے کرتا رہا۔
حملے کی منصوبہ بندی اور شوہر کا فرار
رحیمہ بی بی نے بتایا کہ نومبر میں نوکنڈی حملے سے قبل منظور احمد اس خاتون کو خودکش حملے کی تربیت کے لیے افغانستان لے کر گیا۔ افغانستان روانگی کے چند روز بعد ہی ایف سی ہیڈ کوارٹر نوکنڈی پر خودکش حملے کی خبر سامنے آئی۔ جب منظور احمد نے حملہ آور خاتون کی تصویر دکھائی تو وہ وہی ’مسافر‘ خاتون نکلی جس نے ان کے گھر قیام کیا تھا۔ واقعے کے بعد منظور احمد خود افغانستان فرار ہو گیا اور اپنی اہلیہ کو بھی وہاں بلانے کی کوشش کی، تاہم رحیمہ بی بی اور ان کا بھائی زبیر گرفتاری میں آگئے۔ رحیمہ بی بی کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے بعد شوہر نے انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیا اور اب ان سے لاتعلقی کا اظہار کر رہا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ انکشافات ثابت کرتے ہیں کہ دہشت گرد گروہ معصوم خاندانوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر کے چھوڑ دیتے ہیں۔


