سعودی عرب:‌ گاڑی چلانے کی اجازت کے بعد موبائل استعمال کی پابندی ختم female
The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب:‌ طالبات کو یونیورسٹیز میں موبائل کے استعمال کی اجازت

ریاض: سعودی حکومت نے طالبات کو یونیورسٹیز میں موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔

تفصیلات کے مطابق سعودی شاہ فرماں رواں کی جانب سے گاڑی چلانے کی اجازت ملنے کے بعد حکومت نے ایک قدم اور آگے بڑھاتے ہوئے طالبات کو جامعات میں موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔

سعودی گزیٹ میں شائع ہونے والی رپورٹ میں سعودی وزیر تعلیم ال آئسا نے کہا کہ طالبات کی یونیورسٹیز سے موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت والدین کے مسائل اور شکایات کو مدنظر رکھتے ہوئے دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام یونیورسٹیز کو پابندی ختم کرنے کے احکامات جاری کردیے گئے ہیں تاہم انتظامیہ کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ طالبات سے غیر ضروری موبائل مرکزی دروازے پر لے لیں اور صرف ایک فون اندر لے جانے کی اجازت دیں۔

وزیر تعلیم کے ترجمان مبارک القاسمی کا کہنا ہے کہ سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں اب خواتین موبائل استعمال کرسکیں گی تاہم کلاس چھوڑنے یا لیکچر کے دوران موبائل کے استعمال پر پابندی ہوگی اور خلاف ورزی کی صورت میں فون ضبط کرلیا جائے گا۔

پڑھیں: اٹھارہ سال سے کم عمر خواتین گاڑی نہیں چلا سکتیں، سعودی وزیرداخلہ

انہوں نے کہا کہ سرکاری پابندی ختم ہونے کے بعد موبائل کے علاوہ دیگر رابطوں کی چیزیں بھی جامعات کے اندر استعمال کرنے کی اجازت ہوگی تاہم طالبات کو 11 بجے سے قبل یونیورسٹیز سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

سعودی حکومت کی جانب سے موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت پر طالبات نے سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر جشن بھی منایا اور ایک مخصوص ہیش ٹیگ کو مینشن کر کے مسرت کا اظہار کیا۔

واضح رہے کہ کچھ روز قبل سعودی فرماں رواں شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت کا حکم نامہ جاری کیا تھا، امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ سعودی حکومت اس معاملے میں کچھ قانون سازی کرے گی جس کے تحت خواتین کو مخصوص وقت اور روٹ پر گاڑی چلانے کی اجازت دی جائے گی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں