site
stats
اے آر وائی خصوصی

ڈی ایس پی فیروزآباد کا نوجوانوں پر مبینہ تشدد، فوٹیج آے آر وائی نیوز نے حاصل کر لی

کراچی: فیروزآباد تھانے میں‌ پولیس کے تین نوجوانوں پر مبینہ تشدد کا واقعہ ڈرامائی رنگ اختیار کر گیا. واقعے کی فوٹیج اے آر وائی نیوز نے حاصل کرلی۔
تفصیلات کے مطابق نوجوانوں‌ پر بیہمانہ تشدد کا آئی جی سندھ کی جانب سے نوٹس لینے کے بعد واقعے کی ایف آر درج ہوگئی ہے اور مرکزی ملزم قدیس کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ایس پی جمشید ٹاؤن ڈاکٹر رضوان کا کہنا تھا کہ مقدمے میں اقدام قتل سمیت دیگر دفعات شامل ہیں۔ ایف آئی آر تشدد کا نشانہ بننے والے نوجوان کے والد غلام مصطفےٰ کی مدعیت میں درج کروائی گئی ہے۔
نامزد ملزم ایف آئی آر میں شامل الزامات سے انکاری ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ تنازع لڑکیوں کو چھیڑنے سے شروع ہوا، جس کے بعد اس نے فیروز آباد تھانے فون کر پولیس موبائل بلوا لی۔
واضح رہے کہ نامزد ملزم ڈیس ایس پی فیروز آباد کا دور کا رشتہ دار ہے۔ ملزم نے اس واقعے پر شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسے توقع نہیں تھی کہ بات اتنی بڑھ جائے گئی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈی ایس پی فیروز آباد کا ایف آئی آر میں کہیں ذکر نہیں، پولیس اپنے پٹی بند بھائی کو بچانے میں لگی ہے۔ حالاں کہ فوٹیج ڈی ایس پی فیروز آباد یعقوب بٹ کو نوجوانوں پرتشدد کرتے ہوئے واضح‌ دیکھا جاسکتا ہے
ابتدا میں ایس پی جمشید ٹائون ڈاکٹر رضوان نے موقف اختیار کیا تھا کہ ڈی ایس پی کے خلاف مقدمہ درج کرنا ان کے اختیار میں نہیں، اعلیٰ حکام کی جانب سے اجازت ملنے پرمقدمہ درج ہوگا۔
ایف آئی آر کٹوانے والے غلام مصطفےٰ کا کہنا ہے کہ ان پر کسی قسم کا دبائو نہیں، وہ کیس کو آخر تک لے کر جائیں گے اور انھیں یقین ہے یہ ڈی ایس پی کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top