شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار فیروز خان کا کہنا ہے کہ ذاتی زندگی پر تنقید نے موت کے منہ میں پہنچا دیا تھا۔
فیروز خان ورسٹائل اور باصلاحیت پاکستانی ٹیلی ویژن اور فلمی اداکار ہیں جنہوں نے ڈراموں کی کامیابی کے بعد بے پناہ اسٹارڈم حاصل کیا۔
ان کے مقبول ڈراموں میں حبس، عشقیہ ودیگر شامل ہیں۔
اداکار کی پہلے سیدہ علیزہ سے شادی ہوئی تھی لیکن اختلافات کے باعث دونوں نے علیحدگی اختیار کرلی۔ فیروز خان کی ذاتی زندگی اور طلاق اس وقت بڑی سرخیاں بنیں جب ان کی سابقہ اہلیہ نے ان پر بدسلوکی کا الزام لگایا۔
اب وہ ڈاکٹر زینب کے ساتھ دوسری شادی کر چکے ہیں لیکن ان کی ذاتی زندگی ان کے بارے میں ان کی سابق اہلیہ کی پوسٹس کی وجہ سے آج بھی موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔
یہ پڑھیں: فیروز خان سابقہ اہلیہ علیزا کو کتنی رقم ادا کرتے ہیں؟ بہن نے تفصیلات بتا دیں
حالیہ انٹرویو میں فیروز خان نے اپنی ذاتی زندگی کے لیے نشانہ بنائے جانے کے بارے میں بتایا کہ کس طرح ان کی والدہ کی دعاؤں نے انہیں مشکل وقت میں مضبوط رکھا۔
اداکار نے کہا کہ مجھے ذاتی طور پر شدید نشانہ بنایا گیا، ایک دن میں گر گیا اور موت کے منہ میں جاکر اٹھا، ایک دن میں ٹوائلٹ میں گیا اور خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، میں بچوں کو بہت یاد کررہا تھا کیونکہ مجھے ان سے ملنے کی اجازت نہیں تھی۔
انہوں نے کہا کہ میں نے سوچا کہ اداکاری چھوڑ دوں گا، عدالت میں جاکر کپڑے بیچنا شروع کردوں گا اور متعدد الزامات کا سامنا کرنا پڑا لیکن والدہ کی دعاؤں نے مجھے آیت الکرسی کی تلاوت کی جس نے میری زندگی بدل دی اور مجھے ہوش آیا۔


