The news is by your side.

Advertisement

کراچی:‌ ڈیفنس سے پورٹ قاسم تک فیری چلانے کا اعلان

کراچی: پی این ایس سی نے کراچی میں‌ مرینہ کلب ڈیفنس سے پورٹ قاسم تک فیری سروس شروع کرنے کا اعلان کردیا، چیئرمین پی این ایس سی عارف الٰہی نے کہا ہے کہ کراچی سے پسنی، گوادر اور چاہ بہار تک چلنے والی فیری سروسز آخری مراحل میں ہیں، حکومت نے 2030ء تک فیری سروسز پر پورٹ چارجز معاف کر رکھے ہیں، رواں سال کے آخر تک دو نئے جہاز خریدیں گے.

pnsc-post-1

یہ بات انہوں نے نیول فلیٹ کلب میں منعقدہ پی این ایس سی کے سالانہ جنرل باڈی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایڈمن بریگیڈئیر (ر) راشد صدیقی، ڈائریکٹر فنانس جرار کاظمی، ڈائریکٹر کمرشل کیپٹن محمد شکیل، ڈائریکٹر شپ مینجمنٹ طارق مجید سمیت بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن خواجہ عبید اور کیپٹن انور شاہ سیکریٹری بورڈ زینب سلیمان اور دیگر موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ جہاز رانی کی عالمی صنعت نقصان سے دو چار ہے اس کے باوجود پی این ایس سی منافع میں جارہی ہے ،پی این ایس سی کے جہاز حکومت اور نجی اداروں کا مال لاتے اور لے جاتے ہیں، آئل ٹینکرز سارا سال چلتے ہیں اور خام تیل کی ترسیل جاری رہتی ہے، آرڈز زیادہ ملنے اور جہاز دستیاب نہ ہونے پر جہاز چارٹر پر حاصل کرتے ہیں، کوشش کرتے ہیں کہ جہاز کم سے کم چارٹرڈ پر لیے جائیں اسی طرح بلک کیرئیر جہازوں کے ذریعے بھی خام مال کی ترسیل جاری ہے تاہم اس میں ہمیں فائدے کے بجائے نقصان ہوا اور مسلسل ہورہا ہے، سوچا گیا کہ ان پانچ جہازوں کو پارک کردیں لیکن اس میں ہمیں زیادہ نقصان ہے، امید ہے کہ بلک کیرئیر بھی ہمیں جلد منافع دیں گے۔

چیئرمین پی این ایس سی نے کہا کہ ہم نے نئے جہازوں کی خریداری کی طرف توجہ دی تو اس پر اتنا ٹیکس عائد تھا کہ قیمت کا نصف ڈیوٹی اور محصول کی مد میں ادا کرنا پڑرہا تھااس ضمن میں وزیر خزانہ ، فیڈرل بورڈ آف ریونیواور متعلقہ وزارت میں مسلسل بریفنگ کے بعد انہیں ڈیوٹی اور ٹیکس ختم کرنے پر قائل کیا، اب جو بجٹ آیا میں اس میں جہا ز کی خریداری پر عائد تمام ٹیکسز صفر کردیے گئے ہیں۔

pnsc-post-2

انہوں نے بتایا کہ نئے کے بجائے دس سال پرانے جہاز خریدنا ہماری ترجیح ہے کیوں کہ یہ کم لاگت میں مل جاتے ہیں، رواں سال کے آخر تک مزید دو نئے جہازخریدیں گے۔

فیری سروس کے متعلق انہوں نے بتایا کہ فیری سروس کی کوئی پالیسی نہیں تھی، اسے وضع کرنے کے لیے حکومت سے بات کی، ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس کا چیئرمین مجھے بنایا گیا ، کمیٹی نے پالیسی تشکیل دی اور حکومت نے ریلیف دیا کہ آئندہ 14سال یعنی2030ءتک فیری سروس پر عائد پورٹ چارجز معاف کردیے گئے ہیں ،کراچی سے گوادر، کراچی سے پسنی اور کراچی سے ایران کی بندرگاہ چاہ بہار تک فیری سروس چلانے کا جو منصوبہ تھا وہ اب پایہ تکمیل کو پہنچنے والا ہے، انہیں چلانے کے لیے ٹینڈر بھی جاری کردی گئے ہیں ۔

چیئرمین پی این ایس سی نے بتایا کہ یہاں سے پورٹ قاسم آمدورفت کے لیے شہریوں کو ٹریفک جام کے مسئلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مرینہ کلب ڈیفنس سے پورٹ قاسم تک ایک اور فیری سروس چلائی جائے گی جس سے شہریوں کو سڑک پر ٹریفک جام میں پھنسنے کے بجائے فیری کے ذریعے کم وقت اور کم لاگت میں پورٹ قاسم تک پہنچنے کی سہولت میسر ہوگی جس پر جلد عمل درآمد کیا جائے گا، گوادر، پسنی اور چاہ بہار فیری سروس سے قبل یہ فیری سروس شروع کردیں گے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ حال ہی میں پی این ایس سی نے قرضہ جات کی ادائیگی کے معاملے میں 325ملین روپے کی بچت کی ہے، این آئی بی اور اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک سے زیادہ مارک اپ پر قرضہ حاصل کیا گیا تھا ، فیصل بینک سے کم مارک اپ پر قرضہ حاصل کرکے اسٹینڈرڈ چارٹرڈ کو ادائیگی کردی گئی اور این آئی بی بینک نے اپنی شرائط میں نرمی کی ساتھ ہی 70کروڑ روپے کی ایڈوانس ادائیگی بھی کی جس کے بعد 325ملین روپے کی بچت ممکن ہوئی۔

عارف الٰہی نے بتایا کہ سال2015-16ءمیں پی این ایس سی نے ریکارڈ منافع کمایا ، اس سال خالص منافع 2313 ملین روپے تھا جو کہ گزشتہ سات سے آٹھ سال بعد حاصل ہوا ،انہوں نے بتایا کہ ہمیں اس سال فی حصص تقریباً 18روپے کا منافع ہوا جس کے بعد اس سال حصص یافتگان کو فی شیئر 20فیصد ڈیویڈنڈ ادا کیا گیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں