ہفتہ, فروری 14, 2026
اشتہار

منی لانڈرنگ میگا کیسز کی انکوائری کرنے والے افسران کے تبادلے روکنےکی درخواست

اشتہار

حیرت انگیز

لاہور : ڈائریکٹر ایف آئی اے نے منی لانڈرنگ میگا کیسز کے انکوائری افسران کے تبادلے روکنے کیلئے درخواست دے دی ، جس میں کہا افسران کو ایف آئی اے لاہور میں کام جاری رکھنے کی اجازت دی جائے۔

تفصیلات کے مطابق منی لانڈرنگ میگا کیسز میں ڈائریکٹر ایف آئی اے نے انکوائری افسران کے تبادلے روکنے کیلئے درخواست دے دی ، ڈائریکٹر ڈاکٹر رضوان نے ڈی جی ایف آئی اے کو تحریری درخواست دی۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے کی جانب سے مراسلے میں کہا گیا کہ 5 افسران کے تبادلوں کے احکامات کو کینسل کرنے کی درخواست ہے ، روٹیشن پالیسی کےتحت 10 سال بعد دوسرے صوبے میں تبادلے ہوسکتے ہیں جبکہ پانچوں افسران کو 4 سال 9 ماہ ہوئے ہیں۔

مراسلے میں کہا ہے کہ افسران منی لانڈرنگ سمیت میگا کیسز کی تفتیش کررہے ہیں، افسران کو ایف آئی اے لاہور میں کام جاری رکھنے کی اجازت دی جائے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے کے مطابق افسران میں علی مردان،عمید ارشد بٹ،زوار احمد، شیراز عمر اور رانا فیصل شامل ہیں ۔

گذشتہ روز اہم مقدمات کی انکوائری کرنے والے ایف آئی اے پنجاب کے افسران کے تبادلے کردیئے گئے تھے ، جن میں سے 6 افسران شوگر بحران کی انکوائری کر رہے تھے۔

جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ایف آئی اے کے 9 افسران کا پنجاب سے سندھ میں تبادلہ کر دیا گیا ہے، ذرائع کا کہنا تھا کہ پنجاب سے افسران کے سندھ تبادلے میں روٹیشن پالیسی کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

روٹیشن پالیسی کے تحت 10 سال کے بعد صوبے سے باہر تبادلہ کیا جا سکتا ہے، تاہم ٹرانسفر آرڈر میں صوبے سے باہر افسران تعیناتی کی روٹیشن پالیسی کی خلاف ورزی دیکھی گئی ہے، دستاویزات کے مطابق آج 9 میں سے 5 افسران کو پنجاب میں صرف 5 سال ہی ہوئے ہیں۔

ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا تھا کہ یہ پانچوں افسران شوگر اسکینڈل کی تفتیش کر رہے تھے، اور ان افسران کے تبادلوں سے ڈائریکٹر ایف ائی اے لاہور کو بھی لا علم رکھا گیا ہے، اے آر وائی کی جانب سے مؤقف جاننے پر ڈائریکٹر ڈاکٹر رضوان نے تبادلوں سے اظہار لا علمی کیا۔

+ posts

نعیم اشرف بٹ اے آر وائی نیوز کے
تحقیقاتی صحافت کے ڈپارٹمنٹ کے سربراہ ہیں

اہم ترین

نعیم اشرف بٹ
نعیم اشرف بٹ
نعیم اشرف بٹ اے آر وائی نیوز کے تحقیقاتی صحافت کے ڈپارٹمنٹ کے سربراہ ہیں

مزید خبریں