The news is by your side.

Advertisement

ایف آئی اے نے نیب جیسے اختیارات مانگ لیے

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے نیب کے اختیارات مانگ لیے، کمیٹی رکن مریم اورنگزیب نے ایف آئی اے کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بریفنگ ایسی نہیں کہ 5 سال کی کارکردگی جانچ سکیں۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس ہوا۔ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے ایڈیشنل ڈی جی نے ادارے کی کارکردگی پر کمیٹی کے ارکان کو بریفنگ دی۔

اجلاس میں اینٹی منی لانڈرنگ قوانین کے حوالے سے ایف آئی اے نے نیب کے اختیارات مانگ لیے۔ ایڈیشنل ڈی جی کا کہنا تھا کہ اینٹی منی لانڈرنگ قانون میں خامیوں کی وجہ سے نتائج نہیں مل پاتے، ریکارڈ بروقت نہیں ملتا، تحقیقات التوا میں چلی جاتی ہیں۔

ایڈیشنل ڈی جی نے کہا کہ سرکاری ریکارڈ تک رسائی کا وہی اختیار ملنا چاہیئے جو قومی ادارہ احتساب (نیب) کے پاس ہے، اینٹی منی لانڈرنگ قانون میں ترامیم ضروری ہیں۔ نیب کو اختیار ہے کسی بھی ادارے سے ریکارڈ لے سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بینک سے ریکارڈ لینا ہے تو سیشن جج کی اجازت درکار ہے، سیشن جج سے اجازت میں کئی کئی ماہ نکل جاتے ہیں۔ ایسا بھی ہوتا ہے سیشن جج اجازت ہی نہیں دیتا۔

ارکان کمیٹی نے کہا کہ نیب کے اختیارات کی تو حد ہی نہیں، ریکارڈ حاصل کرنے کا طریقہ ہے تو اس پر عمل میں کیا قباحت ہے۔

ایڈیشنل ڈی جی نے کہا کہ جو ریکارڈ 6 ماہ بعد ملتا ہے وہ 6 دن میں ملے تو تحقیقات تیز ہوسکتی ہیں، کوئی اکاؤنٹ بے نامی نہیں ہوتا، کوئی نہ کوئی نام تو ہوتا ہے۔ ’دو طرح کے اکاؤنٹ ہیں، ایک جعلی اور دوسرا بے نامی۔ جعلی اکاؤنٹ یہ ہے کہ بندہ فوت ہوگیا اور اکاؤنٹ چل رہا ہے۔ دوسرا بے نامی ہے، ہولڈر کی ٹرانزیکشنز سے آمدنی میں مطابقت نہیں رکھتا اور جس کے نام اکاؤنٹ ہوتا ہے وہ نہ فائدہ اٹھاتا ہے نہ خود چلاتا ہے‘۔

ایف آئی اے حکام نے کہا کہ ایسے اکاؤنٹ کھولنے میں بینکر کا ملوث ہونا یقینی ہے۔ بینکوں نے متعلقہ ادارے کو محض 500 ایسے کیس رپورٹ کیے۔ ’ہم نے کئی مرتبہ بینک کے صدر کو بھی ملوث پایا ہے۔ جب بینک کا صدر آپ کے ساتھ ہوگا تو آپ جو مرضی کرلیں‘۔

کمیٹی رکن اور مسلم لیگ ن کی رہنما مریم اورنگزیب نے ایف آئی اے کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بریفنگ ایسی نہیں کہ 5 سال کی کارکردگی جانچ سکیں، میڈیا پر صرف پارلیمینٹرینز کے کیسز کا تذکرہ ہوتا ہے۔ جب سے ایف آئی اے بنی اس وقت سے فہرست دیں۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ ایف آئی اے استعداد اور صلاحیت پر توجہ دے تو نیب کی ضرورت نہیں۔ دوسرے ممالک کی تحقیقاتی ایجنسیوں کے معیار کو مد نظر رکھیں۔ حسن اور حسین نواز کے کیس کی مثال دیکھ لیں۔ یہ کیس بھاری اخراجات کے ساتھ برطانیہ بھیجا گیا مگر لگایا گیا الزام وہاں ثابت ہی نہیں کیا جا سکا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں