The news is by your side.

Advertisement

مخبری کا الزام، ایف آئی اے آفیسر نے الزامات کی سختی سے تردید کردی

اسلام آباد : ایف آئی اے آفیسرسجادباجوہ نے مخبری کا الزام لگنے پر چینی بحران کمیشن کےکام کےطریقہ کار پرسوال اٹھادیئے اور اپنے اوپر لگنے والے الزامات کی سختی سے تردید کی۔

تفصیلات کے مطابق چینی بحران میں مخبری کا الزام لگنے پرایف آئی اے آفیسرسجادباجوہ نے ڈی جی ایف آئی اے کو خط لکھا ، جس میں ایف آئی اےآفیسر نےچینی بحران کمیشن کےکام کےطریقہ کار پرسوال اٹھادیئے۔

ایف آئی اے آفیسرسجادباجوہ نے کہا کہ اپنے اوپر لگنے والے الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہوں، تحقیقات کے حوالے سے اچھی شہرت کےباوجود بےبنیاد الزامات لگائےگئے،سجاد باجوہ

خط کے متن میں کہا گیا کہ کمیشن کا مقصد چینی نرخ بڑھنے ،امپورٹ ایکسپورٹ کےحقائق سامنے لانا تھا اور چینی کی تیاری، خریدو فروخت کے حقائق اور وجوہات کی تحقیقات کرناہے۔

آفیسر سجادباجوہ کا کہنا تھا کہ برآمد چینی تفصیل،ٹرانسپورٹیشن،ڈرائیورز،کسٹم حکام کی معلومات مانگی تھیں، ایف بی آراور ایس بی پی سےافغانستان چینی برآمدکی تفصیلات مانگی تھیں،سجادباجوہ

ایف آئی اے آفیسر نے کہا کہ میں نےافغانستان میں چینی برآمدمیں جعلسازی کی نشاندہی کی، ایف بی آر اور ایس بی پی نے معلومات چھپائیں اور فراہم نہیں کیں، دورہ گھوٹکی میں انکشاف ہوا ایف بی آرکے پاس چینی پیداوار، فروخت کا ریکارڈ نہیں، گھوٹکی کے حوالے سے ایف بی آر کو خط لکھا،جس پر وہ ناراض ہوگئے۔

خط میں کہا گیا کمیشن کے ایک رکن نے مجھے ایف بی آر کا پیغام پہنچایا کہ آپ نے غلط کیا ،کمیشن کے رکن بشیراللہ کو بتایا میری نیت درست ہے، ایس ای سی پی سےشوگر انڈسٹری کےقوائدوضوابط ، بی او ڈی ،دیگرمعلومات مانگیں، ایس ای سی پی کو خط لکھا جواب نہ ملا اسے بدنیتی سمجھا گیا۔

آفیسر سجادباجوہ نے کہا کہ کل ڈی جی ایف آئی اے سے ملاقات ہوئی،کمیشن ارکان احمد کمال،گوہر نفیس موجودتھے، مجھے بتایا گیا کہ میرے خلاف سورس رپورٹ موجود ہے، آئی بی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ میرے شوگر ملز انتظامیہ سے رابطے ہیں جبکہ ڈی جی ایف آئی اے نےکہا میں نے شوگر مل کی فرانزک آڈٹ میں مدد کی۔

خط کے متن میں کہا گیا کہ میں نے لگائے گئے الزامات کی تردید کی، میرے انتظامی آفیسر کے ساتھ روابط تھے ،ان کا بیان ریکارڈ کیا تھا،اگر غلط کام کیا تو شواہد دئیے جائیں، کوئی ٹرانسکرپٹ یا ریکارڈنگ نہیں دی گئی ، پوری ایمانداری کے ساتھ کام کیا اور ضروری اسٹاف تک فراہم نہیں کیا گیا۔

ایف آئی اے آفیسر کا کہنا تھا کہ فیکٹری سائٹ اور شوگر مل کے ہیڈ آفس کا دورہ کیا اور کمیشن ایجنٹس، ڈیلرز ،کمپنی سے مطلوبہ دستاویز،اعداد وشمارقبضےمیں لئے، ڈیجیٹل میڈیا کے فرانزک میں تاخیر ضرور ہوئی تھی، میں نے فارنزک میں شامل چندسائبرکرائم افسران کی شہرت پرڈی جی کو آگاہ کیا، ساکھ کے حوالے سے متنبہ کیا تھا،میں نے زیادہ معلومات حاصل کیں ،کمیشن کو دیں۔

گذشتہ روز شوگر انکوائری کمیشن کا افسرشوگر ملز مالکان کا مخبر نکلا تھا ، ابتدائی انکوائری کے بعد ایڈیشنل ڈائریکٹرسجاد باجوہ کو معطل کردیا گیا تھا، سجاد باجوہ آٹا،چینی کمیشن کے رکن تھے۔

سجاد باجوہ پر شوگرانکوائری کمیشن کی معلومات لیک کرنے اور مبینہ طور پر کمیشن کو گمراہ کرنے کا الزام ہے، ذرائع کا کہنا تھا کہ ایڈیشنل ڈائریکٹر غلط معلومات دیکرانکوائری کمیشن کوگمراہ کرتا رہا اور انکوائری کمیشن کی معلومات خسرو بختیار، چوہدری برادران ودیگرمل مالکان کو دیتا رہا، تاہم دیگر افسران اور متعلقہ افسر کی معلومات میں فرق آنے پر ابتدائی انکوائری کی گئی۔

خیال رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے حکم پر آٹے اور چینی بحران کی انکوائری رپورٹ جاری کی جا چکی ہے، رپورٹ ایف آئی اے کے سربراہ واجد ضیا نے تیار کی، اس رپورٹ میں جہانگیر ترین، مونس الہی اور خسرو بختیار کے رشتے دار کے نام سمیت کئی نامور سیاسی خاندانوں کے نام شامل ہیں، رپورٹ پبلک کرنے سے قبل وزیر اعظم عمران خان نے اس کا خود جائزہ لیا تھا۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ 25 اپریل کو کمیشن کی رپورٹ سامنے آنے پر مزید ایکشن ہوگا، کمیشن کی رپورٹ کے بعد جو بھی ملوث ہوا قانون کے تحت اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں