اصغر خان کیس، ایف آئی اے نے سپریم کورٹ سے مدد مانگ لی
The news is by your side.

Advertisement

اصغر خان کیس، ایف آئی اے نے سپریم کورٹ سے مدد مانگ لی

اسلام آباد : ایف آئی اے نے اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ سے مدد مانگ لی، ایف آئی اے نے رپورٹ میں کہا ہے کہ سیاستدانوں میں رقوم کی تقسیم کی تحقیقات میں کسر نہ چھوڑی،بدقستمی سے تحقیقات کو منطقی انجام تک نہیں پہنچایا جاسکا۔

تفصیلات کے مطابق فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے اصغرخان کیس میں سپریم کورٹ سے مدد مانگ لی، سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں ایف آئی اے نے کہا ہے سیاستدانوں میں رقوم کی تقسیم کی تحقیقات میں کسرنہ چھوڑی۔

کسی نے پیسوں کی تقسیم قبول نہیں کی، کیس کی تحقیقات بند گلی میں داخل ہوگئی ہے ، عدالت رہنمائی کرے

ایف آئی اے کی استدعا

رپورٹ میں کہا گیا کہ تمام اہم گواہوں سے اوربینک ریکارڈ کی مکمل چھان بین کی۔ متعلقہ بینک افسران کےبیان بھی ریکارڈ کیے گئے، ایک سو نوے ٹی وی پروگرامز کا جائزہ لیاسیاستدانوں کے بیان ریکارڈ کیے ، اہم ثبوتوں کے لیے وزارت دفاع سے بھی رابطہ کیا،لیکن بدقستمی سے تحقیقات کو  منطقی انجام تک نہیں پہنچایا جاسکا۔

ایف آئی اے رپورٹ میں مزید کہا گیا رقوم تقسیم کرنے والے افسران کے نام ظاہر نہیں کیےگئے، کسی نے پیسوں کی تقسیم قبول نہیں کی جبکہ رقوم کی تقسیم میں ملوث اہلکاروں سے متعلق نہیں بتایاگیا۔

ایف آئی اے نے استدعا کی کیس کی تحقیقات بند گلی میں داخل ہوگئی ہے ، عدالت رہنمائی کرے۔

گذشتہ روز چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے مشہور زمانہ اصغر خان عمل در آمد کیس کی سماعت کے لیے نیا بینچ تشکیل دے کر سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے مقرر کر دیا تھا۔

جسٹس گلزار احمد 3 رکنی بینچ کے نئے سر براہ ہوں گے جبکہ دیگر میں جسٹس فیصل عرب اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل ہیں۔

اصغر عمل در آمد کیس کی سماعت 11 فروری کو سپریم کورٹ میں ہوگی، اس موقع پر ایف آئی اے معاملے پر پیش رفت سے آگاہ کرے گا، اس سلسلے میں اٹارنی جنرل، ڈی جی ایف آئی اے اور تمام متعلقہ فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں۔

مزید پڑھیں : اصغر خان عمل درآمد کیس سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے مقرر

یاد رہے 11 جنوری کو سپریم کورٹ نے اصغرخان کیس بند نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا ، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس میں کہا تھا کہ اصغرخان نے اتنی بڑی کوشش کی تھی، ہم ان کی محبت اورکوشش رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔

بعد ازاں 18 جنوری 2019 کو سپریم کورٹ نے اصغر خان کیس کاعبوری تحریری حکم نامہ جاری کیا تھا، جس میں سیکرٹری دفاع کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ایف آئی اے ایک ہفتے میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔

عبوری تحریری حکم نامے میں کہا گیا تھا ایف آئی اے کے دلائل سے مطمئن نہیں ہیں، ہمارےخیال کے مطابق کچھ چیزوں سےمتعلق تفتیش کی ضرورت ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں