کراچی: ایف آئی اے نے صرافہ بازار کراچی میں کارروائی سے متعلق زیر گردش ویڈیوز کو گمراہ کن ،ایڈٹ شدہ قرار دے دیا اور کہا کارروائی چاندی کی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے عین مطابق کی گئی تھی۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے نے کراچی کے صرافہ بازار میں کی جانے والی حالیہ کارروائی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز پر اہم وضاحت جاری کردی۔
ایف آئی اے حکام ک نے کہا کہ انٹرنیٹ پر شیئر کی جانے والی ویڈیوز گمراہ کن اور ایڈٹ شدہ ہیں، جن کا باقاعدہ نوٹس لے لیا گیا ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی خفیہ اطلاعات پر چاندی کی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے عین مطابق کی گئی تھی، دکان کے سرکاری ریکارڈ میں 178 کلو چاندی کی موجودگی ظاہر کی گئی تھی، چھاپے کے دوران وہاں صرف 15 کلو مقامی برانڈڈ چاندی موجود پائی گئی۔
ترجمان نے سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ باقی ماندہ 163 کلو چاندی ہنگامہ آرائی اور افراتفری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مبینہ طور پر غائب کر دی گئی۔
ترجمان ایف آئی اے نے بتایا کہ کارروائی کے دوران بعض عناصر نے جان بوجھ کر ہجوم اکٹھا کیا اور سرکاری افسران پر دباؤ ڈال کر قانونی کارروائی میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی۔ تاہم، ایف آئی اے کی ٹیم نے انتہائی تحمل اور پیشہ ورانہ انداز کا مظاہرہ کرتے ہوئے صورتحال کو کنٹرول کیا۔
حکام کے مطابق چھاپے کے دوران ملزمان کے موبائل فونز قبضے میں لے لیے گئے ہیں، جن کی ابتدائی جانچ پڑتال سے اسمگلنگ نیٹ ورک کے اہم اور ٹھوس ڈیجیٹل شواہد حاصل ہوئے ہیں، ان شواہد کی روشنی میں ملزمان اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف باقاعدہ انکوائری کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ایف آئی اے نے کراچی کی کاروباری برادری کو یقین دہانی کراتے ہوئے واضح کیا ہے کہ "یہ کارروائی خالصتاً اسمگلرز اور غیر قانونی کام کرنے والوں کے خلاف ہے، شریف شہر اور محب وطن کاروباری برادری کے خلاف نہیں۔ تاہم، قانونی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے اور ہنگامہ آرائی کرنے والے عناصر کے خلاف سخت ایکشن جاری رہے گا۔”
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


