جمعہ, مئی 8, 2026
اشتہار

خواجہ احمد عباس جیسے بُوتے والا ادیب اب اردو کو شاید ہی نصیب ہو!

اشتہار

حیرت انگیز

یہ تذکرہ ہے اردو ادب، صحافت اور ہندوستانی سنیما کی ایک سرکردہ شخصیت کا جنھیں ہم خواجہ احمد عبّاس کے نام سے جانتے ہیں۔ وہ ایک ایسے فکشن نویس، صحافی، فلم ساز اور مکالمہ نگار تھے جنھیں ان کے نظریات اور روشن فکر کی بدولت بھی ہندوستان میں بڑی عزّت اور احترام حاصل رہا۔

خواجہ صاحب سے متعلق یہ یادیں ہم نے اردو کے معروف مزاح نگار مجتبیٰ‌ حسین کی کتاب چہرہ در چہرہ سے نقل کی ہیں۔ شخصی خاکوں پر مشتمل اس کتاب کے مصنّف خواجہ احمد عبّاس کے فکر و فن سے بے حد متاثر تھے اور ان کے ایک مداح رہے ہیں۔ اس کتاب میں مجتبیٰ حسین لکھتے ہیں:

"خواجہ صاحب کے اسسٹنٹ وحید انور حیدر آبادی ہونے کے ناتے میرے پرانے دوست تھے۔ ان کے ذریعے خواجہ صاحب کی بہت سی باتوں کا علم ہوتا رہتا تھا۔ کام اور لکھنا پڑھنا خواجہ صاحب کے لیے دین اور ایمان کی حیثیت رکھتا تھا۔ ایک ایک پل مصروف رہتے تھے۔ پھر ان کی شخصیت بھی کئی خانوں میں بٹی ہوئی تھی۔ فلم بنا رہے ہیں، بلٹز کا آخری صفحہ لکھ رہے ہیں، کہانیاں لکھ رہے ہیں، صحافتی تحریریں الگ لکھ رہے ہیں۔ سیاسی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔ آدمی کیا تھے؟ آئینہ خان تھے، لیکن اتنے خانوں میں بٹنے کے باوجود ان کی شخصیت کی انفرادیت مجروح نہیں ہونے پاتی تھی۔ جو کام بھی کرتے، اس میں ان کا عقیدہ اور زاویۂ نگاہ صاف دکھائی دیتا۔”

"ایک بار میں نے کہیں مذاق میں یہ جملہ کہہ دیا تھا کہ عباس صاحب کی فلم کو دیکھیے تو یوں لگتا ہے جیسے آپ بلٹز کا آخری صفحہ پڑھ رہے ہیں اور بلٹز کا آخری صفحہ پڑھیے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آپ عباس صاحب کی فلم دیکھ رہے ہیں۔ میرے اس جملہ سے وہ بہت لطف اندوز ہوئے تھے۔

میں کئی بار بمبئی گیا، لیکن ان سے ملاقات کی کوشش نہیں کی، کیوں کہ مجھے ان کی مصروفیات کا اندازہ تھا۔ ١٩٦٨ء کی سرسری ملاقاتوں کے گیارہ سال بعد ان سے میری جو ملاقات ہوئی وہ ایک دل چسپ ماحول میں ہوئی۔ ۱۹۷۹ء میں میرے دفتر یعنی نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ میں ایڈیٹر کی ایک اسامی کے لیے ایک انٹرویو مقرر تھا۔ میں بھی اس اسامی کے لیے ایک امیدوار تھا۔ جب انٹرویو کے لیے مجھے طلب کیا گیا تو دیکھا کہ خواجہ صاحب انٹرویو بورڈ کے ممبر بنے بیٹھے ہیں۔ میں نے حیرت سے انھیں دیکھا تو اُن کے ہونٹوں پر ایک شفقت آمیز مسکراہٹ پھیل گئی۔ سلیکشن کمیٹی کے ایک رکن نے خواجہ صاحب کی طرف اشارہ کر کے مجھ سے پوچھا کیا آپ انھیں جانتے ہیں، میں نے کہا "بہت اچھی طرح جانتا ہوں اور اس لیے بھی جانتا ہوں کہ ان کی وجہ سے کم از کم ایک رسالہ کو میں غلط ڈھنگ سے پڑھتا ہوں، یعنی شروع سے آخر تک پڑھنے کے بجائے آخر سے شروع تک پڑھتا ہوں۔ میرا اشارہ بلٹز کی طرف تھا جس کا آخری صفحہ خواجہ صاحب لکھتے تھے اور جب تک خواجہ صاحب زندہ رہے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میں نے بلٹز خریدا ہوا اور اس کا مطالعہ شروع سے شروع کیا ہو۔ اس رسالے کو ہمیشہ آخر سے شروع تک پڑھتا تھا۔”

"میرے جواب کو سن کر خواجہ صاحب کی شفقت آمیز مسکراہٹ میں کچھ اور بھی شفقت شامل ہو گئی۔ انٹرویو بورڈ کے سارے ارکان نے مجھ سے کچھ کچھ ضرور پوچھا۔ لیکن خواجہ صاحب آخر سے شروع تک خاموش بیٹے رہے۔ انٹرویو جب ختم ہونے لگا تو بورڈ کے چیئرمین نے خواجہ صاحب سے کہا کہ وہ بھی مجھ سے کوئی سوال پوچھیں۔ اس کے جواب میں خواجہ صاحب نے کہا میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ یہ میرے کسی سوال کا کیا جواب دیں گے۔ سوال اس شخص سے کرنا اچھا لگتا ہے جسے آپ نہ جانتے ہوں۔ اس جملے نے میرا حوصلہ کتنا بڑھایا تھا، اسے شاید میں لفظوں میں بیان نہیں کر سکوں گا۔ بعد میں پتہ چلا کہ اس اسامی کے لیے میرا انتخاب ہو گیا ہے۔ خواجہ صاحب دہلی میں دو تین دن رہے لیکن میں ان کا شکریہ ادا کرنے کے لیے نہ جا سکا۔ کیوں کہ میں جانتا تھا کہ اگر میں ان کا شکریہ ادا کروں تو وہ اس کا کیا جواب دیں گے۔”

"چار پانچ مہینوں بعد مہاراشٹر اردو اکیڈمی کی دعوت پر مجھے بمبئی جانے کا موقع ملا۔ اس تقریب میں کنہیا لال کپور بھی موجود تھے۔ جلسہ جاری تھا کہ خواجہ صاحب ہاتھ میں کتابوں کا ایک چھوٹا سا بنڈل اٹھائے چلے آئے اور پچھلی نشستوں پر بیٹھ گئے۔ جلسے کے بعد خواجہ صاحب سے ملاقات ہوئی۔ بڑی محبت سے ملے۔ اپنے ناول "انقلاب” کی ایک جلد مجھے اپنے آٹوگراف ساتھ دی، لکھا تھا: "مجتبی حسین کے لیے، جن کے پتے کی مجھے ہمیشہ تلاش رہتی ہے۔” وہ ادبی محفلوں میں کم جاتے تھے۔ لیکن غالباً کنہیا لال کپور سے ملنے کا اشتیاق انھیں محفل میں کھینچ لایا تھا۔ خواجہ صاحب سے یہ میری آخری ملاقات تھی۔ اسے بھی دس برس بیت گئے۔ اس کے بعد انھیں جلسوں میں دیکھا ضرور لیکن ملنے کی ہمت نہیں پڑی۔”

"۱۹۸۶ء میں انجمن ترقی پسند مصنفین کی گولڈن جوبلی تقریب میں شرکت کے لیے وہ دہلی آئے۔ تقریب کے دوسرے دن کے اجلاس میں وہ آئے تو کچھ اس طرح کہ دو آدمی انہیں اٹھائے ہوئے تھے اور وہ بڑی مشکل سے قدم اٹھا رہے تھے۔ انھیں اسٹیج پر پہنچنے میں پندرہ بیس منٹ لگ گئے، بے حد کم زور ہو گئے تھے۔ انھیں اس طرح تکلیف سے چلتے ہوئے دیکھ کر آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ وقت کی سنگینی اور بے رحمی پر غصہ آیا کہ وہ آدمی کو کیا سے کیا بنا دیتی ہے، لیکن جب خواجہ صاحب نے اپنا خطبہ پڑھا تو آواز میں وہی کرارا پن تھا، لہجے میں وہی عزم و حوصلہ تھا۔ ایک ایک لفظ سے اُن کی انا اور اُن کے پکے عقیدے کا اظہار ہوتا تھا۔ ان میں ایک ایسی زبردست قوتِ ارادی تھی جس کے بل بوتے پر وہ سب کچھ کرنے کا حوصلہ رکھتے تھے۔ جسمانی کمزوریوں کے باوجود انھوں نے آخری وقت تک لکھا۔ لکھنے کو وہ عبادت سمجھتے تھے۔”

"ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ جس عقیدے کو انھوں نے سچّا جانا اُس پر آخر وقت تک قائم رہے۔ ذہنی قلابازیاں لگانے اور کرتب دکھانے کے وہ قائل نہیں تھے۔ ادیب پیدا ہوتے رہیں گے، لیکن خواجہ احمد عباس جیسے بُوتے والا ادیب اب اردو کو شاید ہی نصیب ہو۔ پانی پت اپنی جنگوں کے لیے مشہور ہے اور مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پانی پت کی آخری اور اصلی لڑائی خواجہ احمد عباس نے اپنی تحریروں کے ذریعے لڑی تھی۔ یہ لڑائی تھی ظالم کے خلاف، مظلوم کے حق میں، سرمایہ دار کے خلاف، مزدور کے حق میں، ظلمت کے خلاف اجالے کے حق میں اور طاقت ور کے خلاف، کم زور کے حق میں اور جب تک اس لڑائی کا فیصلہ نہیں ہو جاتا، ہمیں خواجہ صاحب کی تحریریں قدم قدم پر یاد آتی رہیں گی اور اس یاد کو تازہ رکھنا ہم سب کا فرض ہے۔”

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں