The news is by your side.

فیفا سربراہ یورپی ممالک کے دہرے معیار پر پھٹ پڑے

دوحا: فیفا کے صدر نے یورپی اقوام کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہ ہم یورپی لوگ پچھلے 3000 سال سے انسانوں کے ساتھ جو سلوک کر رہے ہیں اس کے ازالے کے لیے ہمیں تین ہزار سال تک انسانوں سے معافی مانگنا ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق انہوں نے یہ مطالبہ دوحا میں اپنی پہلی باضابطہ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا، انہوں نے قطر پر جاری یورپی ملکوں میں تنقید کو یورپ کے دوہرا معیار قرار دیا۔

گیانی انفینٹینو نے ساتھ ہی قطری حکومت کے سلسلے میں انتظامات کی بھر پور تحسین و تائید کی۔

یہ بھی پڑھیں: فیفا ورلڈ کپ، افتتاحی میچ ایکواڈور نے جیت لیا

فیفا سربراہ کہا میں آج اپنے آپ کو ایک قطری کے طور پر محسوس کررہا ہوں، میں خود کو ایک عرب شہری کے طور پر محسوس کرتا ہوں۔ ایک افریقی سمجھتا ہوں۔ ایک ہم جنس پرست سمجھتا ہوں، ایک معذور کے طور پر دیکھتا ہوں اور ایک تارک وطن کارکن کے طور پر محسوس کرتا ہوں۔

اپنی پریس کانفرنس میں انہوں نے قطر کی امیگریشن پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ قطر نے اتنی بڑی تعداد میں دوسرے ملکوں کے کارکنوں کو اپنے ہاں اتنی بڑی تعداد میں روزگار کے مواقع فراہم کئے۔

قطر کی امیگریشن پالیسی کے دفاع کرتے ہوئے فیفا سربراہ کا کہنا تھا کہ ہم یورپی ملک اپنی سرحدیں بند کر دیتے ہیں اور ان ملکوں کے لوگوں کو نہیں آنے دیتے جن میں آمدنی کی شرح بہت نیچے ہوتی ہے۔

انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر یورپ واقعی مزدوروں اور نوجوانوں سے کوئی ہمدردی رکھتا ہے تو اسے بھی قطر کی طرح ان لوگوں کے لیے کچھ عملی طور پر کرنا ہوگا ، صرف زبانی کلامی لیکچرز کی ضرورت نہیں ہے۔

فیفا کے سربراہ نے اسٹیڈیم میں شراب کی فروخت کے فیصلے کا بڑھ چڑھ کر دفاع کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں